عدالت سے باہر ہونے والی سرگرمیوں پر صبر کر رہے ہیں: چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کسی کے کہنے سے ہماری شان اور انصاف میں کمی نہیں آئے گی، عدالت کے باہر جو کچھ ہورہا ہے اس پر صبر کر رہے ہیں، ہمارے تحمل اور برداشت پرداد دیں۔ سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف عدالتی معاونت کیلئے روسٹرم پر آئے۔اٹارنی جنرل نے کہا جہانگیر ترین نے سیکشن 15 اے،15بی پر اعتراض کیا ہے۔ان سیکشنز کو کبھی سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا۔ کیا سیکشنز کو چیلنج کرنا عدالتی کاروائی پر حملہ تو نہیں ہے؟جہانگیر ترین نے شیئرز کی خریداری سے 7کروڑ سے زائد کمائے،شوکاز نوٹس پر جہانگیر ترین نے غیرقانونی طریقے سے رقم کمانے کا اعتراف کیا۔ ایس ای سی کی کارروائی پر جہانگیر ترین نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ چیف جسٹس نے کہا کسی قانون یااس کے سیکشنز کو کسی وقت بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔کیا جہانگیر ترین نے اپنے جواب میں قانون کو چیلنج کیا؟ اشتر اوصاف نے کہا کہ پہلے تحریری بیان میں جہانگیر ترین نے قانون کو چیلنج کیا۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ منی بل کے ذریعے رینٹ کنٹرول قوانین میں ترمیم ہوسکتی ہے؟اشتراوصاف نے بتایا کہ منی بل کے ذریعے ترمیم نہیں ہوسکتی۔ایس ای سی پی کے سیکشنز میںترمیم کا تعلق فنڈز سے ہے۔ جہانگیرترین کے خلاف ایس ای سی پی کی کاروائی حتمی ہوچکی ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ہمارے سامنے ایس ای سی پی کی کارروائی چیلنج کی گئی۔ اٹارنی جنرل نے کہا اگرکوئی سیکشن غیر آئینی بھی تھا تو ٹرانزیکشنز واپس نہیںہو سکتیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کہناچاہتے ہیں کہ جہانگیر ترین پر کمیشن نے جرمانہ عائد کیا۔عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان کے2002میں کاغذات نامزدگی مسترد نہیں ہوئے۔عمران خان نے اگر اثاثے چھپائے ہوتے تو کاغذات نامزدگی مسترد ہوجاتے۔کاغذات نامزدگی پر کوئی اعتراضات نہیںاٹھائے گئے۔وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ 1997 کے کاغذات نامزدگی میں لندن فلیٹ کو ظاہر نہیں کیاگیا۔وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ 1997 کے کاغذات نامزدگی کی دستاویزات ہمارے پاس نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 1997 کے کاغذات نامزدگی کا فارم کہیں سے ڈھونڈکر لائیں۔ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ 1997 کا الیکشن عمران خان نے نہیں جیتا تھا۔1997کے کاغذات نامزدگی منگوانے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے باہر جو کچھ ہورہا ہے اس پر صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہمارے تحمل اور برداشت پرداد دیں۔ کسی کے کہنے سے ہماری شان ، انصاف میں کمی نہیں آئے گی۔جو مرتبہ ہمیں ملا ہے، اس سے زیادہ اس دنیا میں کیا مل سکتا ہے۔ کسی کیلئے اپنے کام میں ڈنڈی کیوں ماریں؟جہانگیر ترین کے وکیل کو عدالت نے تحریری گزارشات جمع کرانے کا حکم دیدیا۔1997 کے کاغذات نامزدگی منگوانے کی استدعا نہیں کی گئی۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ اصل سوال اب کیا گیا یورو اکاﺅنٹ کہاں سے آیا۔ درخواست گزار کی ذمہ داری ہے غیر متنازعہ دستاویزات نہ دیں۔ وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے تسلیم کیا کہ این ایس ایل کمپنی بنائی۔ عمران خان نے تسلیم کیا کہ 1992کا الیکشن لڑا، دستاویزات دینے کی باری اب عمران خان کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 1997کے کاغذات نامزدگی منگوالیں تو کیا ہو گا، 1997میں عمران خان الیکشن ہار گئے تھے، چھوڑیں یہ بات باہر جا کر کیجئے گا۔ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ مجھے دلائل دینے کےلئے آئندہ پیر تک مہلت دے دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم 1997 کا ریکارڈ منگوانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ عدالت نے 1997کے کاغذات نامزدگی منگوانے کی استدعامسترد کر دی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل اکرم شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا کیس نیا رخ اختیار کر گیا ہے، اس وقت 3/184کے تحت مقدمہ سن رہے ہیں۔ ناقابل تردید ثبوتوں کا بوجھ درخواست گزار کے کندھوں پر ہے، اگر جواب سے بظاہر مطمئن ہوئے تو زیادہ تفصیلات میں نہیں جائیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ بات کرنا نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن بات نکلی ہے تو بتا دیتے ہیں کہ آئین اور قانون کو نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن ہم انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کیا اس طریقے سے آئین و قانون کو نشانہ بنانا حب الوطنی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں داد دیں سب سنتے ہیں لیکن یہ باتیں مقدمے پر اثرانداز نہیں ہونے دیتے۔ کمال دیکھیں باتیں ہورہی ہیں مگر ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ دنیا میں انعام ملے یا نہیں، صبروتحمل پرآخرت میں ہماری مغفرت ضرورہوگی۔ایس ای سی پی کے قوانین پراٹارنی جنرل کے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین نے جو ہرجانہ جمع کروایا وہ قومی خزانے میں چلا گیا۔ اب 10سال بعد جہانگیر ترین کا اس قانون پر اعتراض درست نہیں۔ اس قانون کے تحت جو ایکشن لیا گیا وہ لیا جاچکا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر ترین اس قانون کے تحت پہلے ہی اپنی سزا کاٹ چکے ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس پر میرا موقف دوسرا ہے ، یہ الگ معاملہ ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سماعت 14 نومبر تک کے لئے ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں