نمبروں کی دوڑ اور حقیقی تعلیم — ارشد فاروق بٹ

ارشد فاروق بٹ

خیبر پختونخواہ میں گزشتہ چار سال میں تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں جس میں مفت کتابوں کی فراہمی، لڑکیوں میں تعلیم کی حوصلہ افزائی کے لیے وظائف، کمیونٹی بیسڈ لڑکیوں کے سکول، ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام، آئی ٹی لیب ، اساتذہ ترغیبی پروگرام، اساتذہ کی تربیت، شفاف بھرتیاں، آزاد نگرانی کا انتظام، چھ کمروں کے پرائمری سکول، سکولوں میں فرنیچر، پرائمری سکولوں میں کھیل کے میدان، قدرتی آفات سے متاثرہ سکولوں کی بحالی، اقراء فروغ تعلیم سکیم، سکول مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم، بائیو میٹرک حاضری کا نظام، مذہبی مدرسوں کو فنڈز کی فراہمی اور ان کو قومی دھارے میں لانا اور سکولوں کو سولر پینلز کی فراہمی کے منصوبہ جات شامل ہیں۔ حال ہی میں خیبر پختونخواہ کے تمام تعلیمی بورڈز کی جانب سے سرکاری و نجی سکولوں کے سربراہان کو ایک لیٹر بھجوایا گیا ہےجس کے تحت آئندہ سال مارچ اور اپریل میں ہونے والےمیٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات نئے پیپر پیٹرن کے مطابق ہونگے۔ لیٹر کے مندرجات کے مطابق عشروں پرانے پیپر پیٹرن کو تبدیل کیا گیا ہے جس میں رٹا کلچر کو فروغ ملتا تھا۔نئے پیٹرن کے مطابق(Knowledge, Comprehension, Application) طلباء کا علم، تفہیم عبارت اور سیکھے گئے علم کےعملی استعمال کی جانچ کی جائے گی تاکہ حقیقی معنوں میں طلبا و طالبات کی تعلیمی قابلیت کو نکھارا جا سکے۔
اس سے قبل ہونے والے امتحانات میں محض علم کی بنیاد پر نمبرات دیے جاتے تھے اور رٹے میں ماہر طلبا پورے پورے نمبر لے لیتے تھے جبکہ اب کے پی کے میں تمام تعلیمی بورڈز اس بات پر متفق ہیں کہ روایتی طریقہ کار کو تبدیل ہونا چاہیے اور (نظریاتی اور تصوراتی) بنیادوں پر طلباء کی جانچ کی جائے۔
’’Conceptual Learning must be encouraged.‘‘پہلے قدم کے طور پر مشقی سوالات میں سے پرچہ نہیں بنایا جائےگا۔ بلکہ سوالات متن میں سے دیے جائیں گے تاکہ صرف وہی طلبا پیپر حل کر سکیں جنہوں نے متن کو اچھی طرح پڑھا اور سمجھا ہو۔
نئے پیپر پیٹرن میں پچاس فیصد نمبر تفہیم عبارت جبکہ علم اور اس کے عملی استعمال میں مہارت کے پچیس فیصد نمبر ہیں۔اس نئے نظام سے یہ کوشش کی جائے گی کہ وہ طلبا جوامتحان پاس کرنے کے لیے رٹا بازی پر انحصار کرتے تھے وہ متن سے متعلق اعلی درجے کی تنقیدی سوچ اپنائیں۔
لیٹر میں مزید کہا گیا ہے کہ 2006 میں ترتیب دیے گئے نصاب تعلیم کے مطابق تدریس سرگرمی مرکز اور استاد، طالبعلم کے تعامل پر مبنی ہونی چاہیے جس پر کبھی عمل نہیں ہو سکا اور اساتذہ روایتی طریقوں سے ہی پڑھاتے رہے ہیں جس سے تدریسی مقاصد کا حصول ناممکن رہا۔بہت سے اساتذہ اسباق میں سے خود سوال بنانے کی زحمت نہیں کرتے اور پچھلے دو تین سال کے پیپر سامنے رکھ کر پرچہ ترتیب دے دیتے ہیں۔ لیکن اب ہونے والے امتحان میں وہ پابند ہونگے کہ اپنے سوالات بنائیں۔
نیا پیپر پیٹرن نقل کے رجحان میں بھی کمی کا سبب بنے گا۔مارکیٹ میں گردش کرنے والی مشقی سوالات اور انکے جوابات پر مشتمل پاکٹ سائز کتابیں جو کہ اسی مقصد کے لیے بنائی جاتی ہیں وہ ناکارہ ہو جائیں گی۔تعلیمی بورڈز نے تجرباتی طور پر اس سال پارٹ ٹو انٹرمیڈیٹ کا فزکس کا پرچہ اسی طرز پر بنایا جس میں طلباء کی بڑی تعداد فیل ہو گئی۔ طلبا یہ کہتے پائے گئے کہ پرچہ مشکل تھا لیکن یہ کوئی نہ کہہ سکا کہ کورس میں سے نہیں تھا۔
منصوبے کے مطابق تعلیمی نصاب اور ٹیچر ایجوکیشن کے صوبائی ڈائریکٹوریٹ اساتذہ کے لیے ٹریننگ کا اہتمام کریں گے۔
اس منصوبے کی کامیابی کے بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے لیکن ہمارے تعلیمی نظام کے بدبودار جوہڑ میں اس سے کچھ حرکت ضرور ہو گی۔ یہ درست ہے کہ ہمارے طلباء اے پلس گریڈ میں پاس ہونے کے باوجودسیکھے گئے علم کو عملی زندگی میں مہارت سے استعمال کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
اس حقیقت کے ادراک کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام کی ناکامی کا صرف اساتذہ کو ذمہ دار ٹھہرانا بھی ناانصافی ہو گی۔ تعلیم کے لیے ناکافی بجٹ، تعلیمی سہولیات کا فقدان، قابل متروک نصاب، سکولوں میں عملے کی کمی، ناکافی تنخواہیں، دوردراز تعیناتیاں اور طلبا کا گھریلو پس منظر جیسے عوامل اپنے اپنے دائرہ کار میں تعلیمی عمل کو متاثر کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں