جانے کس جُرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں: نواز شریف

لاہور: سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ آصف زرداری کسی اور کو خوش کرنے کے لئے مجھے گالیاں دے رہے ہیں، تمام جمہوری پارٹیوں کو ایک اصول پر اکٹھا ہونا چاہئے، مجھے نہیں پتا مجھے کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ کیا سی پیک کی سرمایہ کاری اور کراچی میں امن لانے کی سزا دی جا رہی ہے، ایسی عدلیہ نہیں چاہئے جو نظریہ ضرورت ایجاد کرے اور آمروں کو ہار پہنائے اگر ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہو تو وہ کھلی عدالت میں ہو، کوئی این آر او نہیں ہو رہا، جو ہمیں ٹکر مارتے ہیں، انہیں کوئی نہیں پوچھتا، شریف فیملی میں کوئی اختلاف نہیں، نوازشریف نے احتساب عدالت کے باہر اور کمرہ عدالت میں میڈیاسے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مجھے معلوم نہیں کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے، کیا امن بحال کرنے اور معاشی ترقی کی سزا دی جا رہی ہے‘ دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا جو یہاں ہو رہا ہے انہوں نے کہاکہ تمام جمہوری پارٹیوں کو ایک اصول پر اکٹھا ہونا چاہئے، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کس چیز کے لئے پیشیاں بھگت رہے ہیں، کیا یہ کرپشن کیس ہے؟ کسی سے کِک بیکس وصول کیے یا ٹھیکے میں پیسے لئے، ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا، دہشت گردی کو ختم کر کے رکھ دیا، انہوں نے سوال کیا کی کیا اس بات کی سزا تو نہیں دی جا رہی کہ کراچی کے امن کو بحال کیا؟ ہم نے پاکستان کی معیشت کو ٹھیک کیا، ملک میں ریکارڈ ترقی ہوئی، ریزروز میں اضافہ ہوا، سٹاک ایکسچینج تاریخ میں اتنی بلند سطح پر نہیں گئی، نواز شریف نے واضح کردیا کہ ان کے خاندان میں کوئی اختلاف نہیں، باہر کے کچھ لوگ اختلاف کی خواہش رکھتے ہیں جوکبھی پور ی نہیں ہو گی، ان کا کہنا تھا کہ اداروں سے تصادم صرف ہمارا ہی کیوں ہوتا ہے توہین عدالت اندر سے بھی ہوتی ہے باہر سے بھی، انصاف کے تقاضوں کی توہین کون کر رہا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ وکلا کنونشن میں پوچھے گئے بارہ سوالات کا جواب نہیں ملا۔ کسی کیس میں نہیں دیکھا کہ سپریم کورٹ کا جج کیس کی نگرانی کرے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں نیب کے سینکڑوں مقدمات چل رہے ہیں، نوازشریف کیا کسی نے دیکھا کہ سپر جج بیٹھا نگرانی کر رہا ہو، اگر نہیں تو میرے کیسز میں ایسا کیوں؟ ا نصاف کے لیے لڑ رہا ہوں نیب ریفرنسز کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے، پیشیاں بھگت رہا ہوں ریفرنسز میں صرف کاروبار کے گرد باتیں گھوم رہی ہیں، نواز شریف نے کہاکہ میرے کالج سے پاس آئوٹ ہونے کے وقت سے کیسز بنائے گئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ تین نومبر کے یوم سیاہ کو آج دس سال ہو گئے، ستر سال میں پہلے بھی کئی یوم سیاہ آئے ہیں، کیا ہم نے کوئی سبق سیکھا؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کارروائی اوپن ہونی چاہئے، جب ان سے سوال کیا گیا کہ اداروں سے ٹکرائو کی بات پر آپ کیا کہیں گے؟ تو نواز شریف نے کہا کہ صرف ہمارے ٹکرائو کی باتیں ہوتی ہیں، دوسروں کی ہمارے سے ٹکر پر کیا کہیں گے؟ انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ کوئی این آر او نہیں ہو رہا، نہ پہلے ہوا نہ اب ہو رہا ہے، ماضی میں این آر او پیپلز پارٹی اور جنرل مشرف کے درمیان ہوا، نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں آزاد اور خود مختار عدلیہ کا سپورٹر ہوں ایسی عدلیہ کا سپورٹر نہیں جو نظریہ ضرورت ایجاد کرے، عدالتی نظام درست ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنوکریٹ حکومت کا ستر سال سے سن رہا ہوں جب بھی مارچ آتا ہے مارچ کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ٹیکنو کریٹ حکومت نہیں آئے گی۔ نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ انہیں ایسی عدلیہ نہیں چاہئے جو نظریہ ضرورت ایجاد کرے اور اگر ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہو تو وہ کھلی عدالت میں ہو۔ دریں اثناء سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ اسلام آباد سے لاہور پہنچ گئے۔ انہوں نے جاتی عمرہ میں اپنی والدہ کی قدم بوسی کی جنہوں نے میاں نواز شریف کو ڈھیروں دعائیں دیں۔ نواز شریف نے اپنے والد کی قبر پر حاضری دی اور فاتحہ پڑھی۔ انہوں نے نماز جمعہ بھی جاتی عمرہ میں ادا کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں