مفتی عبد القوی عمران خان کے قریبی ساتھی ہیں: برطانوی اخبار

لاہور: برطانوی اخبار دی ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قندیل بلوچ قتل کیس کے ملزم عبدالقوی کا چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے قریبی تعلق ہے۔اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مفتی عبدالقوی تحریک انصاف کی مذہبی امور کمیٹی کے رکن تھے، قندیل بلوچ کے لواحقین نے قتل کرانے کا الزام ان پر عائد کیا ہے۔جیسے جیسے قندیل بلوچ قتل کیس کی کارروائی آگے بڑھ رہی ہے، اس کیس میں عالمی میڈیا کی دلچسپی بھی بڑھتی جارہی ہے، جس کی ایک وجہ قتل کے ملزمان میں متنازع عالم دین مفتی قوی کا شامل ہونا ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی ماڈل کے قتل کے اہم ملزم مفتی عبدالقوی کے چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان سے بھی قریبی تعلقات ہیں۔مفتی عبدالقوی قندیل بلوچ سے ہوٹل کے کمرے میں ملاقات کا اسکینڈل سامنے آنے سے پہلے تحریک انصاف کی مذہبی امور کمیٹی کے رکن بھی تھے اور کئی بار عمران خان کے ساتھ نیوز کانفرنس بھی کر چکے تھے۔
دی ٹائمز کے مطابق ماڈل کے لواحقین نے عمران خان سے قریبی تعلق رکھنے والے مفتی قوی کو قتل کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
قندیل بلوچ کے والد نے الزام لگایا ہے کہ ان کی بیٹی کے قتل کی ہدایت مفتی قوی نے ہی جاری کی تھیں۔
قندیل بلوچ کو گزشتہ سال متنازع عالم دین مفتی قوی سے نجی ہوٹل کے کمرے میں ملاقات کی ویڈیو جاری کرنے کے کچھ دن بعد قتل کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں