کراچی سٹی کونسل کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی

کراچی: ڈپٹی میئر ارشد وہرا کی پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کے بعد سٹی کونسل کاپہلا اجلاس ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کے باعث شروع ہوتے ہی ختم کردیاگیا۔کے ایم سی بلڈنگ میں ہونے والاسٹی کونسل کا اجلاس شروع ہوتے ہیں اپوزیشن نےمیئر کراچی وسیم اختر کے نعرے لگانے شروع کردیئے اور اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں جبکہ ایم کیو ایم کے ارکان نے میئر کراچی وسیم اختر کے حق میں نعرے لگائے۔اپوزیشن لیڈر کرم اللہ وقاصی اور ایم کیو ایم کے کارکنان کے درمیان شدیدنعرے بازی کے باعث ایوان مچھلی بازار بن گیا اور میئر کراچی نے اجلاس بغیر کسی کارروائی کرکے ختم کردیا اور اپنے چیمبر میں چلے گئے۔اجلاس غیر معینہ مدت تک کےلیے ملتوی کیا گیا۔
بعدا زاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ آج کا اجلاس معمول کا اجلاس تھا، ایسی کوئی قرارداد نہیں آئی جس کی افواہیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں طے ہوا تھا کہ ایجنڈے کو پہلے ختم کیا جائے گا، بینرز اور شور شرابا میڈیا میں آنے کے لیے کیا جارہا ہے۔
اپوزیشن لیڈر کرم اللہ وقاصی کا کہنا ہے کہ آج کے اجلاس میں وسیم اختر نے الزامات کو سچ ثابت کردیا، کے ایم سی تاریخی خسارے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میئر کراچی اختیارات کا روناجانتے ہیں کوئی وژن نہیں، میئرکراچی صرف لوٹنا چاہتے ہیں۔قبل ازیں کراچی کےایم سی بلڈنگ میں میئر کراچی کے خلاف بینرلگائے گئے تھے اور’’نامنظور کرپٹ میئر نامنظور‘‘ کے بینربھی آویزاںکردیئے گئے تھے اور توقع کی جارہی تھی کہ سٹی کونسل کا اجلاس ہنگامہ خیز ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں