لاہور کے باہمت خواجہ سرا نے ناچ گانے کی بجائے باعزت روزگار اپنا لیا

لاہور(ویب ڈیسک) خواجہ سرا کو ہمارے معاشرے میں عموماً حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ عیاشی کے ساتھ ساتھ خواجہ سرا کو صرف ناچ گانے اور تفریح کا ذریعہ تصور کیے جانے والے معاشرے میں خواجہ سرا ناچ گا کر یا مانگ کر اپنی زندگی کی گاڑی چلانے پر مجبور ہیں۔ خواجہ سراؤں پر لگی معاشرتی تہمت کے اس داغ کو دھونے کے لیے لاہور کے ایک خواجہ سرا نے معاشرے کا مقابلہ کرنے اور اپنا تشخص منفرد انداز میں برقرار رکھتے ہوئے روزی کمانے کا ایسا طریقہ اپنایا ہے کہ لوگ اسے تحسین کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔نديم نامی خواجہ سراعام خواجہ سراؤں سے مختلف ہے جو قسمت کو کوستے،سڑکوں پر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے، بھیک مانگتے یا ناچ گانے کے ذريعے اپنے شب و روز گذارتے ہيں۔ ندیم نے لاہور کے معرقف چوراہےنيلا گنبد ميں شکر قندی کی ریڑھی لگا رکھی ہے ہے جہاں وہ رنگین ناچ کی بجائے چٹ پٹی شکر قندی بیچ کر با عزت روزی کماتے ہوئے دیگر خواجہ سراؤن کے لیے قابل تقلید مثال بن چکا ہے جو بے ہودہ طریقے سے روزی کمانے پر مجبور ہو کر معاشرے کے سامنے ہھیار ڈال چکے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں