آٹھ اکتوبر اور پیاروں کی یادیں ———- سید عمران حمید گیلانی

8اکتوبر کے قیامت خیز اور ہولناک زلزلے کو اگر چہ 12برس بیت گے مگر ہو لناک اور پر سوز گھڑی کی یادیں میرے ذہن میں انمٹ نقوش کی طرح ابھی تک ترو تازہ ہیں 8اکتوبر کی ساعت کشمیر ی عوام پر قیامت صغریٰ بپا کرے گی چند سیکنڈز میں ہزاروں لوگ اپنے پیاروں سے روٹھ کر منوں مٹی تلے چلے جائیں گے اور اپنے پیاروں کو پیچھے بے بسی کی حالت میں اشک بہا تے چھوڑ جائیں گے۔ان سارے حالات واقعات کے بارے قیامت خیز زلزلے سے قبل کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
8اکتوبر کے قیامت خیز زلزلے میں متاثرہ علاقے کے لوگوں کی اپنی اپنی دکھ بھری کہانیاں اور آب بیتیاں ہیں جنہیں صفحہ قرطاس پر بکھیر نادر ددل رکھنے والے ا فراد کیلئے مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔8اکتوبر کے اس زلزلے میں جہاں بہت سے لوگ روزے کی حالت میں رب کو پیارے ہو گئے وہاں میں اپنے پیارے دوستوں نوید گردیزی شہید، تنویر الیاس شہید اور عابد آفتاب شہید کی رفاقت سے بھی ہمیشہ کیلئے محروم ہو گیا ہوں۔بقول کسی بزرگ کے ”اچھا دوست اللہ کی طرف سے بڑا انعام ہوتا ہے“۔واقعی میرے یہ تینوں دوست اللہ کی طرف سے گویارحمت کا خزینہ تھے جو اب ہمارے درمیان موجود نہیں اس سانحہ کو گزرے برسوں بیت گئے سوچا اپنے دوستوں کو کچھ یاد کر لوں ان کا تذکرہ کر لیا جائے تاکہ دل پر کچھ بوجھ ہلکا ہو جائے۔
سید نوید گردیزی شہید: موہری فرمان شاہ کے ایک پسماندہ اور دور افتادہ گاؤں میں جنم لینے والے بچے کے متعلق کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ ایسا بلند مقام و مرتبہ اپنے دوستوں کے ہاں حاصل کرے گاجس کی خواہش ہر شخص کو ہوتی ہے نوید گردیزی درمیانے قد،سرخ وسفید نورانی چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی ان کی خوبصورتی و حسن کو مزید دوام بخشتی تھی مختلف تعلیمی اداروں تعلیم حاصل کرنے کے بعد آزاد کشمیر کی سب سے بڑی تعلیمی این جی او ریڈ فاؤنڈیشن کے ساتھ وابستہ ہو گے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں،قابلیت اور بے شمار خوبیوں اور صفات کی بنا پر ریڈ فاؤنڈیشن کے ذمہ داران نے اس گوہر نایاب سے استعفادہ کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر نوید گردیزی کو ریڈ فاؤنڈیشن وسطی باغ کا(AMS) ایریا منیجر سکولز بنا دیا گیا۔نوید گردیزی نے اپنی اس تقرری کو سچ درست ثابت کر دکھایا اور دن رات محنت کر کے ریڈفاؤنڈیشن کے تعلیمی اداروں اور سسٹم کو فعال اور منظم کیا 8اکتوبر2005ء کے دن ریڈ کے آفس میں م میٹنگ جاری تھی کہ زمین نے تھر تھرانا شروع کر دیا نوید گردیزی دیگر افراد کے ساتھ عمارت سے نکل کر کر سیڑھیاں اتر رہے تھے کہ پلازے کی سیڑھیاں گر گئیں اور آپ کی ایک ٹانگ سیڑھیوں کے گرنے سے نیچے دب کر رہ گئی درد کی شدت اور کرب کے ان لمحات میں بھی انہوں نے صبر و استقامت کا دامن نہ چھوڑا تین منزلہ پختہ عمارت کا ملبہ ان کی ٹانگ سے اٹھانا وہان موجود دوستوں کیلئے ممکن نہ تھا چنانچہ لبوں پر کلمے کا ورد جاری رکھے تحریک اسلامی کا یہ جانباز شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گیا۔اسی طرح تحریک اسلامی کے روح رواں تنویر الیاس کو بھلا کون بھلا سکتا ہے جس کے صبح وشام دعوت و تبلیغ میں گزرتے تنویر الیاس اسلامی جمعیت طلبہ باغ کالج اور پھر اسلامی جمعیت ضلع باغ کے ناظم مقام رہے۔انہوں نے تحریک اسلامی اور نوجوان طلبہ کی سب سے بڑی اور منظم تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کو اپنے دور میں باہم عروج پر پہنچایا۔تنویر الیاس دراصل ایک ایسا جو شیلا اور بہادر جوان تھا جو مصائب اور آلام کو ہنس کر گلے لگاتا تھا اور تنظیمی امور میں بڑے سے بڑا ہدف اکیلے قبول کر کے اسے حاصل کرنے کیلئے سرد ھڑے کی بازی لگا دیتا تھا۔برادر تنویر الیاس 8اکتوبر کی صبح سحری اور نماز فجر کی ادائیگی کے بعد قرآن مجید کی تلاوت و ترجمے میں محو تھے کہ قیامت خیز زلزلے کے جھٹکوں سے اس کے آشیا نہ (گھر) ملبے کا دھیڑبن گیا کافی تگ ودوکے بعد برادر تنویر الیاس کی نعش کو نکالا گیاتو سبحان اللہ وہاں لوگوں نے یہ ایمانی منظر بھی دیکھا کہ اس نیک صفت نوجوان کے سینے کے ساتھ قرآن مجید چمٹا ہوا ہے۔اسلامی تحریک کے اس درویش صفت مجاہد نے جان تو قربان کردی مگر قرآن مجید کے تقدس کو پامال نہ ہونے دیا۔یقینا روز قیامت قرآن مجید ان کی شہادت کی گواہی دے گا۔اپنی آنکھوں پر سفید رنگ کے چشمے سجائے سڈول قد کے روشن آنکھوں والے پیارے عابد آفتاب کا کیوں تذکرہ نہ کروں جو 8اکتوبر کے زلزلے میں روزے کی حالت میں اپنے ساتھ معصوم بچے اور شریک حیات کے ساتھ سفر آخرت پر روانہ ہو گیا اور اپنے پیچھے اپنے بوڑھے والدین اور رشتہ داروں کو آنسو بہانے کیلئے چھوڑ گیا۔عابد آفتاب شہید بھی تحریک اسلامی کے روشن ستاروں میں سے ایک تھا جس نے اپنا لڑکپن اور پھر جوانی اللہ کی سر زمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ کیلئے کوشاں رہ کر گزاری۔
نوید گردیزی،تنویر الیاس،عابد آفتاب امت مسلمہ کے وہ گوہر نایاب تھے جو زلزلے میں ہم سے بچھڑ گئے اور اپنے دوستوں،رشتہ داروں اور والدین کو روتا ہوئے چھوڑ گئے مگر ہمیں خوشی ہے کہ اللہ نے ان کو شہادت جیسے عظیم مرتبے پر فائز کیا جو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے۔اللہ پاک میرے ان دوستوں کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین۔

٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں