زلزلے کی قیامت گزرے 12 برس بیت گئے، زخم اب بھی تازہ ہیں

باغ (خصوصی رپورٹ عمران حمید گیلانی) 8اکتوبر2005ء کے قیامت خیز زلزلے کو12سال بیت گئے زلزلے میں بچھڑنے والوں کی یادیں بھلائی نہ جا سکیں خوفناک زلزلے میں ضلع باغ کے تقریبا 8500افراد شہید، 17ہزار زخمی و معذور ہوئے جبکہ باغ کے تقریبا28 ہزار سے زائد مکانات مہندم ہوئے تعمیر نو اور بحالی پر اربوں روپے خرچ کئے جانے کے بعد اب بھی ضلع باغ کے 200تعلیمی ادارے شیلٹر کی سہولت سے محروم ہیں تفصیلات کے مطابق سانحہ آٹھ اکتوبر کی آج بارہویں برسی منائی جا رہی ہے قیامت خیز زلزلے کو اگرچہ برسوں بیت گئے مگر زلزلے میں شہید ہونے والوں کی یادیں ابھی بھی ان کے پیاروں کے دلوں میں زندہ ہیں آج بھی ان دلخراش واقعات کو یاد کر کے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں آٹھ اکتوبر کے قیامت خیز زلزنے نے باغ، مظفر آباد، راولاکوٹ اور بالا کوٹ کے اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی برپا کی جہاں تقریبا87ہزار سے زائد لقمہ اجل بن گے لاکھوں زخمی، معذور اور نے گھر ہوئے ان متاثرہ علاقوں میں تقریبا22 ہزار کے قریب طلبہ و طالبات تعلیمی اداروں میں شہید ہو گئے متاثرہ علاقوں میں نوے فیصد سے زائد انفراسٹریکچر تباہ ہو کر رہ گیا تھا عالمی اداروں، پاکستان اور این جی اوز نے انسانیت کے رشتہ کو قائم رکھتے ہوئے زلزلہ متاثرین کیلئے اربوں ڈالر ز کی امداد کی تعمیر نو و بحالی کا سلسلہ شروع ہوا متاثرہ علاقوں میں ماضی کے مقابلے میں بہتر انفراسٹریکچر قائم ہوا لوگوں کا معیار زندگی اور آمدورفت کے وسائل میں بہتری آئے تعلیمی اداروں سمیت دیگر اداروں کی تعمیرات بھی ہوئیں تاہم ابھی بھی ان بارہ برسوں کے بیت جانے کے بعد بھی متاثرین کی مکمل بحالی و آباد کاری ممکن نہ ہو سکی مختلف ادوار میں قائم ریاستی حکومتوں نے دعوئے اور باتیں تو خوب کیں مگر عمل درآمد خال خال ہی کہیں نظر آیا یہی وجہ ہے کہ متاثرین زلزلہ کے معاوضہ جات کے کیسز ہوں یا پھر تعلیمی اداروں، سرکاری عمارات یا ضلعی انتظامیہ کے انفراسٹریکچر کی تکمیل ابھی تک ادھوری ہے جس سے بڑے پیمانے پر مسائل پیدا ہو رہے ہیں متاثرین زلزلہ کی امداد کیلئے آنے والی خطیر رقوم سے این جی اوز سمیت دیگر اداروں نے بھی اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے زلزلے میں شہادت کا رتبہ پانے والے رب تعالی کے حضور بلند مرتبہ پر فائز تو ہو گئے مگر اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو اک بڑی آزمائش میں چھوڑ گئے ہیں پتا نہیں ان بیچاروں کی آزمائش کی گھڑی کب ختم ہو گی۔

رپورٹ: سید عمران حمید گیلانی، باغ آزاد کشمیر

اپنا تبصرہ بھیجیں