انٹری ٹیسٹ سکینڈل کا ڈراپ سین، یونیورسٹی انتظامیہ ملوث نکلی

لاہور(ویب نیوز) انٹری ٹیسٹ سکینڈل کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک کرنے میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسل اور کنٹرولر امتحانات سمیت یونیورسٹی پرنٹنگ پریس کے ملازمین ملوث پائے گئے ہیں۔ مبینہ اہلکار میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ مختلف نجی اکیڈمیز کو فروخت کرتے تھے۔پرچے کا ریٹ20لاکھ مقرر تھا جبکہ یہ سلسلہ 7سال سے جاری تھا، سات سال سے انٹری ٹیسٹ میں وہ طلبا بھی کامیاب ہوئے جنھوں نے اس سہولت سے استفادہ کیا اور آج مختلف کالجز میں زیر تعلیم ہیں۔ ایف آئی اے نے وائس چانسلر جنید سرفراز کو گرفتار کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے تحت ہر سال ہزاروں طلبہ وطالبات انٹری ٹیسٹ دیتے ہیں، اس عمل کو شفاف بنانے کے دعوے تو بے شمار کئے جاتے ہیں مگر گذشتہ ماہ انٹری ٹیسٹ کا ایک پرچہ لیک ہونے پر بڑے پیمانے پر طلبہ وطالبات نے احتجاج کیا جس کے بعد پنجاب حکومت نے انٹری ٹیسٹ کو کالعدم قرار دے کر معاملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ، تحقیقات کے دوران یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جنید سرفراز ، کنٹرولر امتحانات صائمہ تبسم اور یونیورسٹی کے پرنٹنگ پریس پر کام کرنے والے ملازمین توصیف اور انس ملوث پائے گئے، ایف آئی اے نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو گرفتار کرکے کارروائی شروع کردی ہے جبکہ انٹری ٹیسٹ کے پرچے لیک کرنے پر یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف مقدمات درج کردئیے ہیںمیڈیا رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی ملازمین سوشل میڈیا پر انٹری ٹیسٹ کے پرچے لیک کرتے تھے جبکہ اس کے عوض وہ پرائیویٹ اکیڈمیوں اور امیر طلبہ و طالبات سے لاکھوں روپے بھی بٹورتے تھے ، اس دوران طلبہ وطالبات کو حل شدہ پرچے دئیے جاتے تھے اور مختلف مقامات پر ان کی تیاری بھی کرائی جاتی تھی۔
یہ سلسلہ اس قد ر خفیہ انداز جاری تھا کہ 7سال تک انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی دوسری جانب پنجاب حکومت نے معاملے کی مزید تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ دوبارہ لینے کا اعلان کردیا ہے، اس دوران نئے انٹری ٹیسٹ کے لئے طلبہ وطالبات سے کسی بھی قسم کی مزید فیس وصول نہیں کی جائے گی۔یونیورسٹی آف ہیلتھ سئائنسز کے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر فیصل مسعود کی زیر صدارت اجلاس میں میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ 29 اکتوبر کو دوبارہ لینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تحقیقات کے بعد رحیم یار خان اور ملتان سے بیرون ملک فرار ہونے والے ایک ملزم جنید کو گرفتار کر لیا گیا ہے جب کہ انتظامیہ نے یونیورسٹی کا نیا وی سی بھی مقرر کر دیا ہے۔یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ پرچہ لیک کرنے والے عناصر کو تو گرفتار کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں مگر مختلف اکیڈمیز جو ان پرچوں‌کی خریدار تھیں ان کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی. ذرائع کے مطابق ان اکیڈمیز کے مالکان سیاسی اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ میڈیا ہاؤسز کے مالک ہیں اور ماضی میں بورڈ کے پرچہ جات بھی اسی طرح لیک کروانے میں ملوث رہے ہیں. یہ لوگ میڈیا ہاؤسزکے مالکان ہونے کے علاوہ اپنے اسی قسم کے ہتھکنڈوں سےمستفید ہونے والے سابق طلبا کی طاقت سے کارروائی سے بچے ہوئے ہیں جو بڑے عہدے داروں کی اولاد اور سیاسی اثر و رسوخ کے مالک ہین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں