مدد کا صلہ ….. صداقت حسین ساجد

(صداقت حسین ساجد بچوں کے قلم کار ہیں اور دوکتابوں کے مصنف ہیں.آج کل بچوں کا اشتیاق اور دیگر دو رسائل کی ادارت کے فرائض انجام دے رہے ہیں)

’’ میں آپ کے پاس ایک کام کے لیے آیا ہوں ۔ ‘‘
’’ جی … جی ! بولیے … اگر میرے بس میں ہوا ، تو ضرور کروں گا ۔ ‘‘
’’ میں بہت پریشان ہوں کہ میں یونی ورسٹی کی فیس کہاں سے ادا کروں … میرے حالات کا تو آپ کو پتا ہی ہے … میں بڑی امید لے کر آپ کے پاس آیا ہوں … آپ میرے دوست ہیں اور دوست ہی دوست کے کام آتا ہے ۔ ‘‘
’’ آپ کی بات تو درست ہے ، دوست ہی دوست کے کام آتا ہے ، لیکن … ‘‘
’’ لیکن کیا ؟ ‘‘
’’ لیکن آج کل میرے بھی حالات آپ کی طرح کے ہیں ، اس لیے میں آپ کی مدد نہیں کر سکتا … میں خود پریشان ہوں کہ یونی ورسٹی کی فیس کہاں سے ادا کروں ؟ ‘‘
یہ سن کر وہ پریشان ہو گیا ۔ وہ اٹھارہ سال کا یتیم لڑکا تھا ۔ اگر وہ وقت پر فیس ادا نہ کر پاتا ، تو ’ اسٹینڈ فورڈ یونی ورسٹی ‘ میں اس کا داخلہ نہ ہو پاتا ۔ یہاں تک تعلیم حاصل کرنے میں بھی اسے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اس کے دوست نے اسے پریشان دیکھا ، تو کچھ سوچنے لگا ۔ اچانک وہ بولا ۔
’’ مجھے ایک خیال سوجھا ہے ؟ ‘‘
’’ خیال … کیسا خیال ؟ ‘‘
’’ اگر ہم یونی ورسٹی میں ایک موسیقی کا پروگرام کریں ، تو مجھے یقین ہے کہ اس پروگرام سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ہم اپنی فیس ادا کر سکیں گے ۔ ‘‘
’’ اوہ ! زبردست … اگر ہمارا یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا ، تو ہماری مشکلات کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ ‘‘
پھر وہ دونوں اس منصوبے پر غور و فکر کرنے لگے ۔ اس کی تمام جزیات پر اچھی طرح غور کرنے کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس پروگرام میں پرفارم کرنے کے لیے پیڈریوسکی کو بلایا جائے ۔ پیڈرسوکی اس دور کا عظیم پیانو نواز تھا اور یہ دور 1892 ء کا تھا ۔ وہ اس کے پاس گئے اور اسے اس پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے راضی کرنے لگے ۔ پیڈریوسکی کے منیجر نے کہا ۔
’’ پیڈریوسکی معاوضہ لے کر اس پروگرام میں شرکت کر سکیں گے ۔ ‘‘
’’ جناب ! ہم تو خود غریب ہیں اور اپنی مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لیے یہ پروگرام ترتیب دے رہے ہیں ۔ ‘‘
’’ معاوضے کے بغیر ان کا آنا مشکل ہے ۔ ‘‘
یہ سن کر وہ دونوں دوست سوچنے لگے ۔ آخر دو ہزار ڈالر میں معاملہ طے پا گیا ۔
اس طرف سے بے فکر ہو کر دونوں طالب علم دل و جان سے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کی تیاریوں میں لگ گئے ۔
آخر وہ دن بھی آن پہنچا ۔ پیڈریوسکی نے اپنی طرف سے بہترین اور یاد گار کار کردگی کا مظاہرہ کیا ، لیکن بد قسمتی سے مناسب پبلسٹی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی تعداد بہت کم رہی ۔ سارے ٹکٹ فروخت نہ ہو سکے ۔ انھیں اس پروگرام سے صرف سولہ سو ڈالر کی آمدنی ہوئی تھی ۔ یہ بہت شرمندگی کی بات تھی ۔ اب وہ پیڈریوسکی کا معاوضہ کہاں سے دیتے ۔ کچھ سوچ کر انھوں نے پیڈریوسکی کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ۔ ان کا ارداہ تھا کہ اسے ساری بات بتا دیں گے ، پھر جو ہوگا ، دیکھا جائے گا ۔
وہ پیڈریوسکی کے پاس گئے اور اس کے سامنے سولہ سو ڈالر رکھ دیے ۔ یہ دیکھ کر اس نے ان سے پوچھا ۔
’’ یہ کیا ہے ؟ ‘‘
’’ سولہ سو ڈالر ہیں جناب ! ‘‘
’’ کیا مطلب … معاملہ تو دو ہزار ڈالر میں طے ہوا تھا ناں ؟ ‘‘
’’ جی ہاں ! لیکن ہم بے حد شرمندہ ہیں کہ ہم اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہو سکے … آپ یوں کریں کہ یہ ابھی رکھ لیں … باقی کے چار سو ڈالر بعد میں ہم آپ کو ادا کر دیں گے ۔ ‘‘
’’ یہ ممکن نہیں ہے … میں ایسا نہیں کر سکتا ۔ ‘‘
یہ سن کر وہ دونوں دھک سے رہ گئے اور التجا کرتے ہوئے بولے ۔
’’ جناب ! آپ مہربانی کریں … آپ کو کون سی کمی ہے … ہم غریب اور یتیم ہیں … تعلیم حاصل کرنے کے وسائل نہیں تھے … ایک کوشش کی تھی ، جس میں بھی ناکام رہے … آپ ہمارا جذبہ اور حوصلہ دیکھیے … یہ احسان کر دیجیے ۔ ‘‘
’’ تم دونوں میرا مطلب نہیں سمجھے تھے ۔ ‘‘
یہ سن کر وہ دونوں چونک اٹھے ۔
’’ کیا مطلب … جناب ! ‘‘
’’ میں تم لوگوں کے جذبے اور حوصلے سے بہت متاثر ہوا ہوں … تم نے غریب اور یتیم ہو کر بھی حوصلہ نہیں چھوڑا … اپنی منزل حاصل کرنے کی کوشش کی … یہ الگ بات ہے ، اس میں کامیاب نہیں ہو سکے ، لیکن میں تمھیں ناکام نہیں ہونے دوں گا … تم ایسا کرو … یہ رقم اٹھا لو … اپنے اخراجات اور تعلیم کی فیس رکھ لو … باقی کچھ بچ جائے ، تو مجھے دے دینا … ‘‘
دونوں طالب علم یہ سن کر دھک سے رہ گے ۔ ان کے منہ سے شکریے تک کا لفظ نہ نکلا ۔
٭ ٭ ٭
وقت گزرتا گیا ۔ پیڈریوسکی نے ان دو یتیم بچوں کی جو مدد کی تھی ، اس کا اسے یہ صلہ ملا ، وہ ایک دن پو لینڈ کا وزیرِ اعظم بن گیا ۔ وہ پولش قوم کا ایک عظیم رہ نما بن کر ابھرا ۔ جنگ ِ عظیم کے زمانے میں پولینڈ میں قحط سا چھا گیا ۔ فصلیں تباہ و برباد ہو چکی تھیں اور دو کروڑ کے قریب لوگ بھوک سے مرنے کے قریب ہو چکے تھے ۔ پولینڈ اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا ۔ مالی مشکلات کی وجہ سے پولینڈ کے لیے کسی آزاد منڈی سے غلہ خریدنا ممکن نہیں تھا ۔
پیڈریو سکی نے امریکا کے ’ فوڈ اینڈ ریلیف ‘ محکمے کی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور ان سے مدد کی درخواست کی ۔ اس محکمے کا سربراہ ہربرٹ ہور نام کا ایک امریکی تھا ۔
اس نے پیڈریوسکی کو مدد کی یقین دہانی کرائی اور فوری طور پر غلے سے بھرے کئی جہاز پولینڈ روانہ کر دیے ۔ یہ امداد پولینڈ کے باسیوں کے لیے ایک عظیم نعمت ثابت ہوئی تھی ۔
پیڈریوسکی نے ہربرٹ ہور کے اس احسان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے امریکا کا سفر کیا ۔ جب دونوں کی ملاقات ہوئی ، تو پیڈریوسکی نے اس کا شکریہ ادا کرنا چاہا ۔ ہربرٹ ہور نے اسے منع کر دیا اور کہا ۔
’’ جناب وزیرِ اعظم ! آپ کو میرا شکریہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ‘‘
’’ وہ کیوں ؟ میں آپ کا شکریہ کیوں نہ ادا کروں … آپ نے ہم پر اتنا بڑا احسان کیا ہے ۔ ‘‘
’’ آپ شاید مجھے پہچان نہیں رہے ، مگر مجھے اچھی طرح یاد ہے … ‘‘
’’ کیا مطلب ؟ ‘‘
’’ آپ نے سالوں پہلے دو غریب یتیم طالب علموں کی مدد کی تھی اور آپ کے اس احسان کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکے تھے … ان میں سے ایک میں ہوں ۔ ‘‘
یہ سن کر پیڈریوسکی حیران رہ گیا کہ اسے وہ بات اب بھی یاد ہے ۔ یتیموں کی مدد نے اسے بر وقت صلہ دیا تھا اور اس کا ملک تباہ و برباد ہونے سے بچ گیا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں