بنگلہ دیش ہجرت کرنے والےروہنگیا مسلمانوں کی ایک اور کشتی الٹ گئی

ڈھاکہ: میانمار سے بنگلہ دیش ہجرت کی کوشش کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کی ایک اور کشتی ڈوب گئی ،کشتی میں سوار 60 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔غیر ملکی ذرائع کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کی کشتی گزشتہ روزسمندر میں الٹ گئی اور تیز لہروں کا شکار ہو گئی۔اس سے پہلے اقوامِ متحدہ اور امدادی کارکنوں نے غیرملکی میڈیا کو بتایا ہے کہ میانمار میں اقوامِ متحدہ کی قیادت نے روہنگیا کے حقوق کے معاملات کو حکومت کے سامنے اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان جوئل ملمین کا کہنا ہے کہ اب تک کم ازکم 23 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے اور لاپتہ 40 افراد کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔حالیہ مہینوں میں سرکاری فوج کی جانب سے آپریشن شروع کیے جانے کے بعد سے اب تک پانچ لاکھ کے قریب روہنگیا اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ان میں بہت سے اب بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہیں۔خیال رہے کہ میانمار کی آبادی کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔ میانمار میں ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں.ان مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں۔ حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے تاہم یہ یہ میانمار میں نسلوں سے رہ رہے ہیں۔بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان آج بھی خستہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ انھیں وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. لاکھوں کی تعداد میں بغیر دستاویزات والے روہنگیا بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں جو دہائیوں پہلے میانمار چھوڑ کر وہاں آئے تھے،شمالی صوبے رخائن میں پولیس چوکیوں پر حملے کے بعد فوج نے حملہ آوروں کے خلاف ایک آپریشن شروع کیا تھا۔میانمار کی حکومت روہنگیا کے خلاف گذشتہ ایک ماہ سے جاری آپریشن کے بارے میں کہتی ہے کہ وہ جنگجوں کے حملے کا جواب دے رہی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں