15کی طرز پر محکمہ تعلیم میں بھی ایمرجنسی سروس متعارف کروانے کی تجویز

ساہیوال(خصوصی رپورٹ) پنجاب حکومت کا 15 کی طرز پر محکمہ تعلیم میں بھی ایمر جنسی ہیلپ لائن قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس ضمن میں مشاورت جاری ہے اور نئے تعلیمی سال سے محکمہ تعلیم میں بھی 15 کی طرز پر ایمرجنسی سروس شروع کر دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اس سروس کے تحت والدین کی جانب سے اساتذہ کی مار پیٹ ، نامناسب رویہ، جبری ٹیوشن پڑھانے ،غیر حاضری اور حکومت کی جانب سے دی گئی سہولیات نہ دینے کے خلاف شکایت درج کروائی جا سکیں گی۔حکومتی ذرائع کے مطابق اس سروس کی مدد سے اساتذہ کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے گی اور مانیٹرنگ کے عمل میں والدین کی شرکت ممکن ہو گی۔ اساتذہ کی تنظیموں کی جانب اس سروس کی مخالفت کی جارہی ہے۔اساتذہ کے مطابق مڈل پاس ایم ای اے اور مانیٹرنگ ٹیمز کی کاغذی کارروائیوں سے پہلے ہی بچے کی تعلیم کا عمل متاثر ہے اس کے علاوہ روزانہ میٹنگز اور ایجوکیشن آفس کی ڈاک پوری کرنے کے چکر میں تدریس کے عمل میں سستی آتی ہے اور بچوں میں حکومتی پالیسز کی وجہ سے بد تمیزی کا عنصر خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے حکومت کی یہ ہیلپ لائن نئی نسل کو اساتذہ کے مقابل لا کھڑا کرے گی ۔اساتذہ کا کہنا ہے کہ اساتذہ پر کڑی نظر رکھنے والے اداروں کی اپنی مانیٹرگ کی ضرورت ہے ۔ کم تنخواہوں میں اپنے فرائض انجام دینے والے اساتذہ کی عزت نفس مجروح کرنے کی کوشش کی گئی تو اساتذہ تنظیمیں احتجاج کریں گی اور ظالمانہ پالیسی کو نافذ نہیں ہونے دیں گی

اپنا تبصرہ بھیجیں