منہ سورج کی طرف ہو تو کچھ دکھائی نہیں دیتا….. نوجوان شاعر زیب بٹ کیا کہتے ہیں؟؟؟

پنجابی اور اردو کے نو جوان شاعر زیب بٹ کا انٹر ویو

انٹر ویو: محمد اویس سکندر

آج سے تین سال پہلے کی بات ہے میں اپنی خالہ جان کے ساتھ میاں چنوں میں فیاض کتاب گھر میں کھڑا کتابیں دیکھ رہا تھا چونکہ خالہ جان کو بھی شعر و ادب سے شغف ہے اور مجھے بھی اچانک میری نظر الماری پر پڑی اک کتاب پر پڑی جس پہ شعر لکھا ہوا تھا کہ
کون پڑھ سکا ہے روشن چہروں کا مفہوم
منہ سورج کی طرف ہو تو دکھائی کچھ نہیں دیتا

یہ دیکھنا تھا کے بس وہ کتاب لی اور ہم وہاں سے نکل آئے اور ہم نے پوری کتاب کا مطالعہ کیا ہمیں وہ کتاب بہت پسند آئی بعد میں اللّه کا کرنا ایسا ہوا کے وہی شاعر میرے بہت اچھے دوست بنے جن کا نام زیب بٹ ہے آپ کے لیے ان کا انٹروویو کیا ہے آئیے آپ کی نذر کرتے ہیں ۔۔۔۔

سوال: اپنا مختصر سا تعارف کروائیں ؟
زیب بٹ : اورنگ زیب (زیب بٹ) 5مئی 1976 کو گجرات میں پیدا ہوا۔لالہ موسی سکونت ہوں میٹرک گورنمنٹ ھائی سکول منگووال غربی سے کیا پاکستان میں تعلیم کے بعد اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی میں سیلز افسر کے طور پر کام کرتا رہا۔ پھر 2004 میں کویت چلا گیا وہاں سے کچھ عرصہ عراق میں کام کیا پھر 2010 میں ساوتھ افریقہ چلا گیا وہاں سے پھر واپس کویت اور اب کویت سے یورپ دو سوا دو سال سے ہوں یوں مختلف ممالک کی سیر بھی اور روزگار بھی ۔

سوال: شاعری کا آغاز کب کیا؟
زیب بٹ: 2002ء شاعری کا آغاز کیا اور تب سے لے کر اب تک مسلسل شاعری کررہا ہوں ۔
سوال: آپ پنجابی اور اردو میں شاعری کرتے ہیں کس زبان میں شاعری آسان ہے ؟
زیب بٹ: شاعری کرنا میرا شوق ہے اور دوسری بات کے شاعری میں عبادت سمجھ کر کرتا ہوں اس لیے اللّه کی طرف سے مجھ پر مسلسل کرم ہو رہا ہے اس لیے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کر رہا ہوں۔
سوال: کیا آپ کا مجموعہء کلام شائع ہو چکا ہے ؟
زیب بٹ: جی بالکل 2010ء میں میرا پہلا مجموعہء کلام “وہ سارے گماں سچ نکلے” کے نام سے شائع ہوچکا ہے اور انشاءالله دوسرا مجموعہء بھی جلد منظر عام پر آجائے گا۔
سوال: آپ کس شاعر کو پسند کرتے ہیں ؟
زیب بٹ: میں نے سب شعراء کا کلام کچھ کچھ پڑھا ہے ریگولر کسی شاعر کو نہیں پڑھا اور میں ہر لکھنے والے کی قدر کرتا ہوں ۔
سوال: نوجوان نسل فیس بک پر شاعری کررہی ہے ان کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے ؟
زیب بٹ: ہماری نوجوان نسل بہت کمال لکھ رہی ہے اور نوجوانوں میں بہت اچھے تخیلات پاۓ جاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ فیس بک بھی بہت کمال ہے اس کی بدولت آپ پوری دنیا سے اپنی بات کہہ سکتے ہیں جو پہلے ممکن نہیں تھا چند گنتی کے لوگ تھے بادشاہت سنبھالے ہوۓ۔۔۔۔۔۔
آپ خود نوجوان ہیں آپ بھی شاعری کر رہے ہیں اور آپ کی شاعری وقت کے ساتھ نکھر رہی ہے. یہ سوشل میڈیا کی بدولت ہے کہ آپ جیسے نوآموز شعرا کے رابطے اساتذہ سے ہوتے ہیں اور رہنمائی کی بدولت شعر میں پختگی آتی ہے.

سوال: آپ اگر شاعر نہ ہوتے تو کیا ہوتے ؟
زیب بٹ: میں شاعر نہ ہوتا تو شاید دکھ مجھ مار دیتے اس لیے اللہ پاک نے شاعری سے نوازا۔

سوال: نوجوان نسل کے لیے کوئی پیغام ؟
زیب بٹ: نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام کہ اپنے سوچوں کو بہت خوبصورت بناؤ اچھا سوچو دنیا کی دلوں میں زندہ رہ جاؤ سب کے لیے اچھا کرنے کی کوشش کرو اللّہ رب العزت آپ کو بہت نوازے گا۔ (انشاءاللّه)

سوال: اپنے پسندیدہ اشعار میں سے کون سا شعر قارئین کو سنائیں گے؟
زیب بٹ:
پیاس لکھتا ہوں میں تو عَلَم روتا ہے
جو حسین ؓ لکھتا ہوں تو قلم روتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں