بیان حلفی میں عمران خان کا موقف آج کے موقف سے مختلف تھا: چیف جسٹس

اسلام آباد: عمران خان نااہلی کیس کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ تحریری جواب میں کہاں لکھا ہےکہ پینسٹھ لاکھ جمائما کو گفٹ کئے،بیان حلفی میں آپ کا مؤقف مختلف تھا،آج آپ نیا موقف دے رہے ہیں، جائزہ لے رہے ہیں بنی گالہ اراضی بے نامی تھی یا نہیں، عدالت بینک ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ مانگ رہی ہے، رقوم منتقلی سے متعلق شواہد پیش کرنے کی ذمہ داری عمران خان کی ہے۔ کیس کی سماعت 18 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی درخواستوں کی سماعت کی۔سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جمائما کے اکاؤنٹ میں رقم منتقلی کا اندازہ عمران خان کے دو خطوط سے ہوتا ہے اور یہ خطوط 11 اور 18 اپریل 2003 میں لکھے گئے۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ٹھوس ثبوت دیں پرچیاں نہ دیں، ہم نے ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ مانگا ہے خطوط نہیں، این ایس ایل اکاؤنٹ سے جمائما کے اکاؤنٹ میں رقم منتقلی کی دستاویز کہاں ہیں؟
چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے سوال کیا کہ ہمیں یہ بتائیں کہ جو رقم 75 ہزار پاؤنڈ کی تھی وہ آپ کی تھی؟
اس پر وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میں نفی میں جواب دیتا ہوں۔وکیل نعیم بخاری نے دلائل میں کہا کہ نیازی سروسز لمیٹڈ کی ملکیت سے متعلق مکمل جواب دوں گا۔
جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بدقسمتی سے آپ تسلی بخش جواب نہیں دے پا رہے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ یہ رقم بینک کے ذریعے کیسے ٹرانسفر ہوئی، جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ میاں بیوی میں پیسے کا لین دین بینکوں کی طرح کا نہیں ہوتا۔
چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایک لاکھ ڈالر کی ایسی رقم بھی ہے جس کا سورس معلوم نہیں ہے، بیگم صاحبہ کی طرف سے جو بڑی رقوم آئیں ان کے بھی واضح بینک چینلز دکھاتے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو پیسے آپ کو جائیداد خریداری کے لیے آتے رہے وہ آپ گفٹ شو کرتے، اگر جائیداد کی خریداری میں بے نامی بھی ہوئی تو کوئی بات نہیں، ہم عمل دیکھ کر فیصلہ کریں گے نیت کا ہمیں معلوم نہیں۔عدالت نے نعیم بخاری کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
اس سے قبل درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل اور سینئر قانون دان اکرم شیخ ایڈووکیٹ کی جانب سے ایک متفرق درخواست بھی جمع کرائی گئی تھی۔درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان نے مقدمے کی سماعت کے دوران بنی گالا کی ملکیت، بنی گالا کے لیے سابقہ اہلیہ سے قرض لینے اور آف شور کمپنی نیازی سروسز سے متعلق کئی بار مؤقف بدلے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان کا تازہ ترین مؤقف بھی پچھلے مؤقف کے خلاف ہے جسے مسترد کردیا جائے۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ اور نامعلوم ذرائع سے بنی گالا کی رہائش گاہ کی خریداری پر درخواست دائر کی گئی جس میں عدالت سے عمران خان کی نااہلی کی استدعا کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں