مجھے نکالنے کا فیصلے پہلے ہی کیا جا چکا تھا: نواز شریف

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سابق وزیر اعظم نے کہا ہے کہ مجھے اور میری فیملی کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے،نشانہ میری ذات اور خاندان ہے جس کی سزا پوری قوم بھگت رہی ہے۔ ترقی کرتے پاکستان کو پٹڑی سے اتارنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ جو مجھے ناکام بنانے کی کوشش میں ہیں ملک کو چلنے دیں. آج احتساب عدالت میں پیشی کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میرا ضمیر مطمین ہے سازشی عناصر کو جان لینا چاہیے کہ آئین جسے موقع دے وہ اسے تسلیم کریں مگر افسوس کی بات ہے کہ ہماری راہ میں روڑے اٹکا کر ہمیں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی توہین کا سلسلہ 70 سال سے جاری ہے۔ہمارے خلاف جن “ہیروں” پر مشتمل جو جے آئی ٹی تشکیل دی گئی اس کے کئی ہیرے خود عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے تھے۔ ہمیں ان ہیروں کی وجہ سے خوار کیا جارہا ہے۔آج کچھ لوگ انھی ہیروں کو سر آنکھوں پر بٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے جو فیصلہ دیا ایسے فیصلے ہو تو جاتے ہیں مگر انھیں تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ اگرعدالتی فیصلوں کی ساکھ نہ رہے تو عدالتوں کی ساکھ بھی نہیں رہتی۔ ہماری تاریخ تمیز الدین سے لے کر نواز شریف تک ایسے کئی غلط فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔میں نے” اقامہ ڈراما” کا سامنا کیا ۔آمرانہ دور میں مجھے اپیلوں کا حق دیا مگر اب مجھے اپیل کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ناہل کرنے کا فیصل پہلے ہی کر لیا گیا تھا۔میں نےپہلے بھی سزائیں بھگتی ہیں، ہتھکڑیاں پہنی اور جیلیں کاٹیں مگر اب میں اپنا اور قوم کا مقدمہ لڑنے کا عزم کر چکا ہوں۔ میں آئین اور جمہوریت، عوام کے حق حکمرانی، ووٹ اور اس کے تقدس اور 70 سال سے نشانہ بنائے جانے والے وزرا ءاعظم کا مقدمہ لڑتا رہوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ کہیں نہ کہیں انصاف موجود ہے اور آخری فتح سچ کی ہو گی۔پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو ترقی دینا، عوام میں اعتماد پید اکرنا، سی پیک منصوبہ ، لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ یاد رکھے جانے والے منصوبے ہیں۔ جھوٹ پر مبنی مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پانامہ کو اقامہ بنا کر مجھے نااہل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔میرے اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ غیر معمولی طور پر نواز شریف نے صحافیو ں کے سوالات کے جواب نہیں دئیے اور شکریہ ادا کرکے چلے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں