مشرف الزامات کی بجائے عدالتوں کا سامنا کریں: آصف زرداری

کمالیہ (حافظ عمر وقاص)پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی پر الزامات ہمیشہ سے لگتے آئے ہیں یہ سلسلہ نیا نہیں ہے،جب مرتضی بھٹو کو قتل کیا گیا تو اس وقت بھی مجھ پر اور بینظیر بھٹو پر الزامات لگائے گئے ، اس وقت بی بی شہید نے الزام لگانے والوں کو واضح طور پر کہا تھا کہ وہ لوگ ایک بھٹو کو شہید کرکے دوسرے بھٹو کی حکومت گرانا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں الزام لگانے والے پر الزام لگادینا اپنا بہترین دفاعی عمل تصورکیا جاتا ہے، ہم مشرف کے خلاف عدالتوں میں گئے تو اس نے مجھ پر الزام لگانا شروع کردئیے، مشرف اتنا ہی بہادر ہے توفرار اختیار کرنے کی بجائے پاکستان میں آکر عدالتوں کا سامنا کرے۔
کمالیہ میں سابق وفاقی وزیر خالد کھرل کے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف ہم عدالت میں گئے اور انہوں نے الزامات لگانا شروع کردئیے، مشرف اتنا بہادر ہے تو وہ الزامات لگانے کی بجائے مقدمات کا سامنا کرے۔ پاکستان میں اس کے علاوہ بھی بہت مسائل ہیں جبکہ سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے۔ اسحاق ڈار معاشی طور پر زخمی پاکستان کو چھوڑ کر بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں۔ ہم نے پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو چار سال تک حکومت کرنے دیں گے مگر میاں صاحب کو حکومت کرنا آتی ہے اور نہ ہی یہ حکومت سنبھال سکتے ہیں۔ موجود حکومت نے کی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے اور اب یہ کہیں گے کہ ہمیں نکالنے کی وجہ سے معیشت گری ہے۔ حالانکہ ہمارے دور میں بھی یوسف رضا گیلانی کو نکالا گیا مگر ہم نے بھی کبھی ایسا نہیں کیا۔ نواز شریف انڈین لابی کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور وہ اپنے عزیزوں کے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لئے انڈیا کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں جبکہ میں پاکستان کے معاشی مفادات چین کے ساتھ وابستہ کرنے کے حق میں ہوں۔
سینٹ میں ترمیم کے حوالے سے سوال کے جواب میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ وہاں ہماری اکثریت نہیں تھی،ا یم کیو ایم نے سینٹ اجلاس سے بائیکاٹ کیا ، انہوں نے نا م لئے بغیر تحریک انصاف کے سینیٹرز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمارے اکثر معاملات میں ساتھ دینے والے افراد نے بھی ترمیم میں ساتھ نہیں دیا۔ اب الیکشن کا زمانہ ہے شاید انہیں کہیں تو کوئی چمک نظر آگئی اس لئے انہوں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ این اے120میں پیپلز پارٹی اگر کارکردگی نہیں دکھا سکی تو عمران خان نے کون سا تیر مار لیا ہے۔ نواب شاہ سے میری بہن نے1لاکھ 20ہزار ووٹ حاصل کئے ہیں ، ن لیگ وہاں سے ووٹ حاصل کرے تو میں مانوں کہ انہوں نے کام کیا ہے۔ عمران خان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہیں انہوں نے خیبر پختونخواہ میں ایک پل تعمیر کر کے کون سا نیا پاکستان بنایا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں