امام حسینؓ کا اسوہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے: صوبائی وزیر

ساہیوال (بیورورپورٹ)صوبائی وزیر انسداد دہشت گردی سردار محمد ایوب گادھی نے کہا ہے کہ امام حسین کی قربانی اسلام کی سر بلندی کے لئے تھی جو ہر مکتب فکر کے مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔یاد حسینؓ منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی صفو ں میں اتحاد پیدا کریں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے سماج دشمن عناصر اور دہشت گردوں کے نا پاک عزائم کو ناکام بنائیں۔انہوں نے یہ بات کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے دورے کے دوران سرکٹ ہاؤس میں ڈویژنل امن کمیٹی کے ارکان،پارلیمنٹریز اور انتظامیہ اور پولیس افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں محرم کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لئے اٹھائے گئے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔صوبائی وزیر سپورٹس اینڈ یوتھ افیئر جہانگیر خانزادہ،آئی جی پنجاب عارف نواز،ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ فیصل شاہکار،ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیرزم رائے محمد طاہر،ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ داخلہ ڈاکٹر آصف طفیل،کمشنر ساہیوال ڈویژن بابر حیات تارڑ اور آر پی او طارق رستم چوہان کے علاوہ تینوں اضلاع کے انتظامی و پولیس افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ کر کے ہمیں دنیا کو پیغام دینا ہے کہ مسلمان متحد ہیں اور ان میں کوئی تفرقہ بازی نہیں۔پاکستان کے خلاف عالمی سازشیں کی جا رہی ہیں جن کا مقابلہ باہمی اتحاد اور بھائی چارے سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور محرم الحرام کے دورا ن سماج دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے میں علمائے کرام کا اہم کردار ہے جسے پورا کرنے میں صوبائی حکومت ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔انہوں نے عاشورہ یوم میں مجالس اور عزاداری کے جلوسوں کی مکمل حفاظت کے لئے انتظامی اقدامات کو سراہا اور یقین دلایا کہ صوبائی حکومت انتظامیہ کی بھر پور مدد جاری رکھے گی۔اس سے پہلے کمشنر ساہیوال ڈویژن بابر حیات تارڑ نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ ڈویژن بھر میں محرم الحرام کے دوران عزاداروں کو مکمل تحفظ دینے کے لئے جامع اقدامات کئے ہیں جن میں جلوس کے راستوں پر سی سی ٹی وی کیمروں اور واک تھر و گیٹس کی تنصیب،میٹل ڈیٹکٹر سے عزاداروں کی سکرینگ،ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے ڈاکٹروں اور دوسرے عملے کی ڈیوٹیاں لگانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔آر پی او طارق رستم چوہان نے بتایا کہ ڈویژن بھر میں انتہائی حساس جلوسوں کی تعداد 80جبکہ مجالس کی تعداد230ہے جن کی حفاظت کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 66علماء و ذاکرین کی زبان بندی اور 78کا ڈویژن میں داخلہ بند کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں