شفقت اللہ مشتاق کے شعری مجموعے کی تقریب پذیرائی

ساہیوال(بیورورپورٹ)شعرابلاغ کا سب سے بڑا موثر ذریعہ ہے جس میں شاعر صرف ایک شعر میں اپنا مکمل ماضی الضمیر بیان کر کے معاشرے کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتا ہے اس پر آشوب دور میں جہاں لوگوں کے پاس ادب کیلئے وقت نہیں اچھی کتاب ایک عطیہ خداوندی ہے کیونکہ ادب سے ہی ایک روادار معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔یہ بات ساہیوال آرٹس کونسل کے مجید امجد ہال میں معروف شاعر شفقت اللہ مشتاق کے شعری مجموعہ ”کلام شفقت“ کی تقریب رونمائی سے مختلف اہل علم نے اپنے خطاب میں کہی۔یہ شعری مجموعہ معروف شاعر اور ایڈیشنل کمشنر کو آرڈینیشن کمشنر آفس فیصل آباد شفقت اللہ مشتاق کی ادبی صلاحیتوں کا مظہر ہے جس پر پروفیسر اعوان قمر‘ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق‘مفتی محمد سلیم‘ڈاکٹر مظہر حیات‘ڈاکٹر غلام محبوب سبحانی اور پروفیسر ارجمند قریشی نے اظہار خیال کیا۔تقریب کے مہمان خصوصی ایڈیشنل کمشنر کو آرڈینیشن ساہیوال میاں جمیل احمد تھے جبکہ صدارت معروف شاعر ڈاکٹر سعادت سعید نے کی۔کنٹرولر طاہر حسین جعفری‘ریذیڈنٹ ڈائریکٹر آرٹس کونسل فیصل آباد طارق جاوید اور ساہیوال ڈاکٹر ریاض ہمدانی اور اہل علم کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھے۔مقررین نے کہا کہ کتاب میں سیاست‘تصوف اور روحانیت کے موضوعات پر شاعری سے عوام کی فکری رہنمائی کے اعلی مقصد کی تکمیل کے ساتھ ساتھ پنجاب کے کلچر اور یہاں کی تہذیبی روایات کی جھلک بھی موجود ہے۔صدر مجلس ڈاکٹر سعادت سعید نے کہا کہ شفقت اللہ مشتاق‘میر تقی میر‘غالب اور اقبال کی طرح نئی روایات بنانے والے شاعر ہیں جن کو ٹیکنالوجی کی ترقی نے ماند کر دیا ہے او ران کو دوبارہ زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔تقریب کے اختتام پر صاحب کتاب نے اپنا منتخب اردو اور پنجابی کلام بھی پڑھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں