ساہیوال میں ”کیس اینڈ کورٹ مینجمنٹ پلان 2017“کا نفاذ کر دیا گیا

ساہیوال (بیورورپورٹ)ڈسٹرکٹ کورٹس ساہیوال میں ”کیس اینڈ کورٹ مینجمنٹ پلان 2017“کا نفاذ کر دیا گیا ہے،اس پلان کے تحت مخصوص نوعیت کے مقدمات کے لئے مخصوص عدالتیں قائم کر دی گئی ہیں جس سے سائلین اور وکلاء کے لئے آسانیاں پیدا ہو ں گی اور سائلین کو آئے روز مقدمات کی تبدیلی اور اپنے مقدمات کو ڈھونڈنے کی مشکل سے مکمل چھٹکارا مل جائے گا۔ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رانا مسعود اختر نے کیس اینڈ کورٹ مینجمنٹ پلان 2017کے افتتاح کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ کورٹس کے تمام ایڈیشنل سیشن جج،سینئر سول جج اور سول ججز موجو د تھے۔انہوں نے کہا کہ قتل اور منشیات فروشی کے مقدمات کے الگ،سول اور فوجداری اپیلوں کے لئے الگ،ناجائزقبضہ اورانشورنس و بیرون ملک پاکستانیوں کے مقدمات کے لئے الگ سیشن عدالتیں قا ئم کی گئی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ گورنمنٹ کے مختلف محکمہ جات کے خلاف مقدمات کے لئے علیحدہ کورٹ قائم کر دی ہے تا کہ ان کے کیسز کو جلد نمٹایا جا سکے۔واپڈا،ماحولیات،بیرون ملک پاکستانیوں،تعلیمی بورڈ،محکمہ انہار،ٹی ایم اے اور کرایہ داری کے لئے بھی ایک مخصوص عدالت قائم کر دی ہے جو سینئر سول جج جوڈیشل کی ہے۔سول مقدمات کے لئے الگ، فیملی اور فوجداری مقدمات کے لئے الگ عدالتیں مخصوص کی گئی ہیں۔سیشن جج رانا مسعود اختر نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصورعلی شاہ کے ویژن کے مطابق تمام ججز صاحبان نے گون اور جوڈیشری عملہ یونیفارم میں اپنا اپنا کام کر رہے ہے اور امید ہے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جتنے اقدامات کر رہے ہیں وہ عوام اور ججز کے لئے آسانیاں پیدا کریں گے اور عوامی مشکلات ختم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں