سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں علاقائی زبانوں پر اپوزیشن اور حکومت میں گرما گرمی

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کے اجلاس میں علاقائی زبانوں کو قومی زبانیں قرار دینے کے معاملے پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں لڑائی ہو گئی۔پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی یک زبان ہو گئے ، سینیٹر عاجز دھامرا نے کہا کہ ن لیگ نے چھوٹوں صوبوں کو مایوس کیا ہے، چیئرمین کمیٹی جاوید عباسی بولے بل ترامیم کے ساتھ منظور ہوا تھا و ہنگامہ آرائی کے بعد اب معاملہ چیئرمین سینیٹ ہی دیکھیں گے ۔
علاقائی زبانوں کو قومی زبانیں دینے کا بل ایجنڈے پر تھا، جس پر بحث ہونا تھی، لیکن بل پیش کرنے والے ارکان سسی پلیجو ، اعجاز دھامرا ، اعظم سواتی اور دیگر بولے کہ یہ بل تو اس کمیٹی نے پہلے ہی اتفاق رائے سے منظور کر رکھا ہے اب دوبارہ بحث کیسی؟ یہ کہہ کر اپوزیشن ارکان نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور شور شرابہ شروع کر دیا۔چیئر مین کمیٹی نےتلخ کلامی کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا ، میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ارکان کا رویہ نامناسب تھا ۔
کمیٹی اجلاس میں الیکشن بل 2017 مزید بحث کے لیے موخر کردیا گیا ، اس بل پر بحث کے دوران وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں پولنگ کے وقت میں توسیع کااعلان کم از کم تین گھنٹے پہلے کرنے اور تمام پریذائیڈنگ افسران کو مسلسل رابطے کے لیے موبائل فون فراہم کرنے تجویز زیر غور ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں