اک نعرہء مستانہ…. پاکستان زندہ باد

اک نعرہ مستانہ….پاکستان زندہ باد ………….سیّد ابرار گردیزی

” خادم حسین ! تمہاری زندگی میرے رحم و کرم پر ہے ۔ ہندوستان زندہ باد اور پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگاﺅ …. میں تمہیں چھوڑ دوں گا “ کھجور سنگھ نے دھاڑتے ہوئے سیدخادم حسین شاہ کو حکم دیا ”ورنہ تمہارے ارد گرد کھڑے پانچ سپاہیوں کی بندوقیں تمہیں بھون کر رکھ دیں گی ۔ زندگی عزیزہے تو جے ہند اور جے ہری سنگھ کا نعرہ لگاﺅ ….بولو قائد اعظم مردہ باد….پاکستان مردہ باد ۔ “
” میں حق کے لیے جیا ہوں اور حق کے لیے مروں گا “ خادم حسین شاہ نے جراء ت اور متانت سے جواب دیا ” تمہارے بزدل سپاہیوں کی بندوقیں مجھے شہادتِ حق سے نہیں روک سکتیں ۔ اس دھرتی کا بچہ بچہ تمہارے جبرو استبداد کے خلاف اورپاکستان پر مرمٹنے کو تیار ہے ۔ لو سنو …. میں نعرہ لگاتا ہوں …. پاکستان زندہ باد ۔ “
” ٹھاہ“ کی آواز کے ساتھ سنسناتی ہوئی گولی سیدخادم حسین شاہ کی ران کو چیرتی پیچھے نکل گئی ۔خون کا فوارہ پھوٹا اور باغ کی دھرتی لالہ زار ہو گئی۔پھر انہیں درخت کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ مسلح فوجی اپنے آفیسر میجر کھجور سنگھ کے ساتھ انہیں مشق ستم بنا تے رہے۔ یہ واقعہ 6 ستمبر 1974ءکا ہے ۔
سید خادم حسین شاہ 1951ء میں باغ کے گاﺅں ہلڑ سیداں میں پیدا ہوئے۔ میٹرک کے بعد پولیس میں بھرتی ہوئے تو انہیں مینڈھر میں تعینات کیاگیا۔جب انہوںنے دیکھا کہ ڈوگرہ پولیس بے گناہ کشمیری مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے تو پولیس سے استعفا دے کر مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد شروع کر دی ۔آپ نے اس وقت تحریک چلائی جب ڈوگرہ راج تھا اور چڑیا پر نہیں مار سکتی تھی۔ آپ نے ظلم کے خلاف آواز حق بلند کی ۔ کہیںبھی مسلم آبادی پر جبر و تشدد ہوتا ،آپ فوراً وہاںپہنچ جاتے ۔ 1964ء میں ڈوگرہ فوج نے ہلڑ سیداںمیں داخل ہو کر مسلمان آبادی کو بے گناہ تشدد کا نشانہ بنایا اور علاقے میں لوٹ مار کی ۔ سید خادم حسین شاہ نے چند ساتھیوں سے مل کر ڈوگرہ فوج پر حملہ کر کے ان کی خوب پٹائی کی اور لوٹا ہوا تمام مال ان سے چھین لیا ۔ڈوگرہ حکومت کو اطلاع ہوئی تو انہیں گرفتار کر لیاگیا ۔
ایک مرتبہ ایک ڈوگرہ مجسٹریٹ نے کسی غریب مسلمان کو جھڑکا اور گالی دی ۔ خادم حسین شاہ اطلاع ملتے ہی مجسٹریٹ کی عدالت میں پہنچے ۔ حفاظتی دستوں کی موجودگی میں انہوں نے اپنی چھڑی تیزی سے گھمائی ۔ چند لمحوں کے اندر مجسٹریٹ صاحب کرسی کے نیچے اوندھے منہ پڑے تھے۔ خادم حسین شاہ پر توہین عدالت کا مقدمہ چلا جس کا انہوں نے مردانہ وار مقابلہ کیا ۔
سید خادم حسین شاہ نے علاقے کے غریب مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی خاطر طویل جدوجہد کی جس کے نتیجے میں انہیں تین مرتبہ جیل جانا پڑا۔ پاکستان کے قیام کے امکانات روشن ہوئے تو انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں عوام میںآزادی کا شعور بیدار کرنے پر صرف کر دیں ۔ وہ آل جموں و کشمیرمسلم کانفرنس باغ کے جنرل سیکرٹری تھے۔ اپنی خداداد صلاحیتوں کے باعث جلد ہی ان کا شمار مسلم کانفرنس کے صف اوّل کے رہنماﺅں میں ہونے لگا اور وہ رئیس الاحرارچودھری غلام عباس کے دست راست بن گئے۔ نہایت ہی پر جوش اور شعلہ بیان مقرر تھے۔ 19 جولائی 1974ء کو سری نگر میں مسلم کانفرنس کا اجلاس منعقد ہوا‘ جس میں الحاق پاکستان کی قرار داد کی منظوری کے ساتھ ساتھ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا بھی فیصلہ کیاگیا۔ اس فیصلے کے مطابق 3 اگست 1974ء کو باغ میں ایک عظیم الشان اجتماع ہوا ۔ خادم حسین شاہ اس اجتماع میں پیش پیش تھے۔ اجلاس کے بعد بے شمار افراد نے گرفتاریاں پیش کیں مگر خادم حسین شاہ نے گرفتار ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا ” میں جیل سے باہر رہ کر ڈوگروں کا مقابلہ کروں گا۔ میں ان کی جیلوں میں گلنے سڑنے سے بہتر سمجھتا ہوں کہ لڑتا ہوا مارا جاﺅں ۔ “
ڈوگرہ فوج نے تحصیل باغ اور سدھنوتی کے مسلمانوں سے اسلحہ جمع کرنا شروع کیا تو خادم حسین شاہ نے گاﺅں گاﺅں جا کر لوگوں سے کہا ”اپنا ہتھیار چھپا کر رکھو ‘ ڈوگرہ فوج کے حوالے نہ کرو کیونکہ ہمیں مستقبل قریب میں ان ہتھیاروں کی ضرورت پڑے گی ۔ “
9 اگست 1974ء کو جب ہڈا باڑی ( باغ) کے مقام پر مسلمانوں کے جلسے پر ڈوگرہ فوج نے گولی چلائی تو سردار عبدالقیوم خان(سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر) اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ نالہ ماہل پار کرکے سید خادم حسین شاہ کے گاﺅں ہلڑ سیداں کی طرف نکل گئے ۔ دوسرے روز علی الصبح وہ خادم حسین شاہ کے گھر پہنچے۔
خادم حسین شاہ نے سردار صاحب سے پوچھا ” اب کیا پروگرام ہے ؟“
سردار صاحب نے کہا ” ہمیں راولپنڈی اور ہزارہ کی جانب نکل جانا چاہیے ‘ تا کہ تیاری کر کے واپس آئیں ۔ “
خادم حسین شاہ نے یہ سن کر غصے اور بے چینی سے کہا ” یہاں آگ لگا کر تم لوگ کہاں بھاگ رہے ہو ‘ نہتے اور بے یارو مدد گار لوگوں کو کس کے سپرد کرکے جا رہے ہو ؟ “
سردار صاحب نے کہا ” یہاں ہم سب مارے جائیں گے۔ “
خادم حسین شاہ نے فیصلہ کن انداز میں کہا ” میں ان سب لوگوں کی حفاظت کروں گا،ان کی حفاظت کی خاطر اپنی جان دے دوں گا ‘ مگر انہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤ ں گا۔ “
خادم حسین شاہ نے اپنی تحریک کو خفیہ طریقے سے جاری رکھا۔ وہ دن کو اپنے گھر سے ڈیڑھ کوس دور ٹھٹھل کے علاقے میں غاروںمیں چھپے رہتے ۔ رات کے وقت اپنے گاﺅں آتے اور سابق فوجیوں کے ساتھ مل کر لڑائی کی تیاری کرتے ۔ ڈوگرہ حکومت ہر قیمت پر سید خادم حسین شاہ کو گرفتار کرنا چاہتی تھی مگر فوج اور پولیس کے لوگ ان کے مقابلے میں آنے سے گریزاں تھے۔چنانچہ ڈوگروں نے مخبروں کا جال بچھا دیا۔ ایک غدار پولیس کانسٹیبل ہمدرد بن کر ان کے ٹھکانے پر گیاجس نے فوراً ڈوگرہ فوج کوشاہ صاحب کے ہائیڈآوٹ کی اطلاع دی ۔6 ستمبر 1974ء کی صبح ڈوگرہ فوج اور پولیس نے محاصرہ کرکے انہیں گرفتار کر لیا ۔ انہیں ان کی اپنی پگڑی کے ساتھ باندھا گیا ۔ گھر والوں کے سامنے انہیں بندوقوں کے بٹوں سے مارا گیا۔ ” خوشی “ کے اس موقعے پر ڈوگروں نے اس ” بڑے دشمن “ کا گھر جلا کر جشن منایا ۔ گھر کا سامان پولیس کے لوگوں نے باہم تقسیم کیا اور مال مویشیوں کو لے کر باغ شہر کی طرف ہانکنا شروع کیا۔خادم حسین شاہ کو قیدی بنا کر ان کے آبائی گاﺅں ہلڑ سیداں سے باغ لایا گیا۔ راستے میں انہوں نے شدت پیاس سے پانی مانگا تو جواب ملا” اب تم پاکستان جا کر پانی پینا ۔ تھوڑی دیر باقی ہے ‘ تمہارا پاکستان بن جائے گا ۔“ باغ تحصیل کے احاطے میں انہیں لا کر چوتھی کشمیر انفنٹری کی بٹالین کے کمانڈر میجر کھجور سنگھ کے سامنے پیش کیا گیا ۔ کھجور سنگھ کو دیکھتے ہی خادم حسین شاہ نے ” اسلام زندہ باد “ …. ” پاکستان زندہ باد“ …. ”ہندوستان مردہ باد“ …. اور ” ہری سنگھ مردہ باد“ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔
کھجور سنگھ نے قہقہے لگاتے ہوئے خادم حسین شاہ کو مخاطب کیا ” موت کو سامنے رقص کرتے ہوئے دیکھ کر پاگل بنتے ہو ۔ خادم حسین !اب تمہاری زندگی میرے رحم و کرم پر ہے۔ پاکستان مردہ باد کہہ دو توتمہیں چھوڑ دوں گا۔ “
خادم حسین شاہ کے ماتھے پر غصے کی شدت سے پسینہ چمکنے لگا ۔ انہوںنے دھاڑتے ہوئے نعرہ لگایا:”پاکستان زندہ باد“ ۔
جواب میں گولی چلی جوآپ کی ران کو چیرتی ہوئی نکل گئی ۔ میجر کھجور سنگھ گرجا: ” خادم حسین ! اب بھی وقت ہے جے ہند کہہ دو تو بچ سکتے ہو ۔ تمہاری ٹانگ ٹھیک ہو سکتی ہے ۔ “
خادم حسین گولی کھا کرشیر کی طرح دھاڑے: ” پاکستان زندہ باد …. ہندوستان مردہ باد ۔“
پانچ بندوقوں نے شعلے اگلے …. خادم حسین شاہ کا سینہ چھلنی ہوگیا۔خون کا فوارہ پھوٹا اور آپ نے ابدی حیات پا لی۔
”سردادنہ داد دست در دستِ یزید“
جس ہمت، ولولے اورجذبے سے سیّدخادم حسین شاہ نے شہادت پائی،وہ شان تا قیامت سلامت رہے گی۔شہید اوّل سیّدخادم حسین شاہ نے کمال جراءت سے جابر حاکم کے سامنے کلمہ حق کہہ کر افضل جہاد کا احیا کیا اور بہادری کے ساتھ اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ۔آپ نے حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کے راستے پر چل کر خادم حسین ہونے کا ثبوت دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ سیّدخادم حسین شاہ صرف اپنے قبیلے کے ہی نہیں ملک و ملت کے شہید ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں