بغیر بجٹ اور بنا چانسلر کے چلتی یونیورسٹی آف ساہیوال

(زیر نظر فیچر عبدالمقدم کا تحریر کردہ ہے، ہم یہ فیچر سماجی تنظیم سجاگ کے تعاون سے شائع کر رہے ہیں. )
ساہیوال کی اس مقامی یونیورسٹی کو شروع دن سے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ان مسائل میں یونیورسٹی کا پہلا بنیادی مسئلہ بجٹ جاری نہ ہونا اور وائس چانسلر کی تعیناتی کا ہے۔دو سال قبل صوبائی اسمبلی میں یونیورسٹی آف ساہیوال ایکٹ 2015ء پاس ہوا، ایکٹ پاس ہونے کے بعد ساہیوال میں الگ یونیورسٹی قائم کی گئی۔یونیورسٹی آف ساہیوال کے لیے فرید ٹاؤن میں سنہ 2005ء سے قائم بہاؤالدین یونیورسٹی کے سب کیپمس کو بی زیڈ یو ملتان سے الگ کر کے یونیورسٹی آف ساہیوال کا درجہ دے دیا گیا۔یونیورسٹی آف ساہیوال میں آٹھ مختلف ڈیپارٹمنٹس میں داخلے شروع کیے گئے جن میں بزنس ایڈمنسٹریشن، انگلش، اکنامکس، سائیکالوجی، کمپیوٹر سائنس، فزکس، کمسٹری سمیت قانون کا تعلیم شامل ہے۔ساہیوال کی اس مقامی یونیورسٹی کو شروع دن سے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ان مسائل میں یونیورسٹی کا پہلا بنیادی مسئلہ بجٹ جاری نہ ہونا اور وائس چانسلر کی تعیناتی کا ہے۔ بی زیڈ یو نے تقریباً 26 لاکھ روپے یونیورسٹی آف ساہیوال کو ادا کرنا ہے جو تاحال نہیں مل سکا۔ “یونیورسٹی انتظامیہ” یونیورسٹی انتظامیہ سے ملنے والی معلومات کے مطابق چھ ماہ کے لیے یونیورسٹی میں عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر رؤف اعظم کو تعینات کیا گیا تھا جو 15 مارچ سنہ 2017ء تک وائس چانسلر رہے، اس کے بعد تاحال یونیورسٹی آف ساہیوال میں کوئی چانسلر تعینات نہیں کیا جا سکا۔وائس چانسلر کی سیٹ خالی ہونے کی وجہ سے کمپیوٹر سائنس کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر شفیق الرحمن کو ہیڈ بنایا گیا ہے۔”مالی سال 17-2016ء کے لیے یونیورسٹی آف ساہیوال کو پنجاب حکومت کی جانب سے تقریباً 20 کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ مختص کر بھی دیا گیا لیکن بدقسمتی سے تاحال جاری نہ ہو سکا، جس وجہ سے یونیورسٹی کے مسائل ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔”انتظامیہ کے مطابق یونیورسٹی میں کل 13 ریگولر پروفیسرز، پانچ کلرکوں سمیت کل 22 ارکان کا عملہ کام کر رہا ہے۔ اساتذہ میں ایک پروفیسر پی ایچ ڈٰی کرنے کے لیے گئی ہوئیں ہیں اور اس وقت فکلٹی کے 12 افراد موجود ہیں۔”یونیورسٹی میں تاحال رجسٹرار سمیت کنٹرولر امتحانات بھی تعینات نہیں ہے۔””یونیورسٹی میں کچھ عملہ 90 دنوں کے لیے عارضی رکھا جاتا ہے جن کا کنٹرکٹ 90 دن بعد دوبارہ بنا دیا جاتا ہے، بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ ماہ درجہ چہارم کے تقریباً 23 ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا۔” طلبہ کو ٹرانسپورٹ کی سہولت دینے کے لیے یونیورسٹی کی ایک بس موجود ہے جو گزشتہ چند ماہ سے ڈرائیور اور کنڈیکٹر نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی میں کھڑی ہے اور طلبہ ٹرانسپورٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ “یونیورسٹی انتظامیہ” یاد رہے کہ ڈیلی ویجز کے یہ ملازمین گزشتہ پانچ سال سے بی زیڈ یو کیمپس میں کام کر رہے تھے، کیمپس کو یونیورسٹی کا درجہ ملنے کے بعد انہیں عارضی ملامین میں شامل کر لیا گیا تھا۔مزید بتایا کہ گزشتہ سال پڑھانے والے وزٹنگ اساتذہ کی تنخواہیں تاحال ادا نہیں ہو سکیں۔ملنے والی معلومات کے مطابق بی زیڈ یو نے تقریباً 26 لاکھ روپے یونیورسٹی آف ساہیوال کو ادا کرنا ہے جو تاحال نہیں مل سکا۔یونیورسٹی آف ساہیوال کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی صورت میں بتایا کہ سکیورٹی کمپنی کے گارڈز جو فروری سے کام کر رہے ہیں انہیں تاحال تنخواہیں نہیں دی جا سکیں، جبکہ ان کی تنخواہوں کے آرڈر سابق وائس چانسلر کی جانب سے ہو چکے تھے۔اہلکار کے مطابق یونیورسٹی میں نو سکیورٹی گارڈ پرائیویٹ کمپنی، جبکہ پانچ گارڈز یونیورسٹی میں موجود ہیں جبکہ نو سکیورٹی گارڈز کو بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے فارغ کر دیا گیا۔
“طلبہ کو ٹرانسپورٹ کی سہولت دینے کے لیے یونیورسٹی کی ایک بس موجود ہے جو گزشتہ چند ماہ سے ڈرائیور اور کنڈیکٹر نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی میں کھڑی ہے اور طلبہ ٹرانسپورٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔”انتطامیہ کے مطابق پوری یونیورسٹی میں صفائی کے لیے دو خاکروب اور دو ہی مالی موجود ہیں، یونیورسٹی میں پانچ ہزار سے زائد پودے لگائے گئے ہیں جن کا بل تاحال بی زیڈ یو کی جانب سے ادا نہیں کیا گیا، یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق بی زیڈ یو میں موجود ارکان کا رویہ رقم کی ادائیگیوں میں بالکل غیر ذمہ دارانہ ہے۔گورنر پنجاب کی جانب سے یونیورسٹی آف ساہیوال کے لیے چانسلر کمیٹی کی منظوری دی گئی تھی، کمیٹی نے سنڈیکیٹ کی تشکیل تک یونیورسٹی کے معاملات کی نگرانی کرنی تھی تاہم تاحال سنڈیکیٹ کمیٹی ہی نہیں بن سکی، جس وجہ سے بورڈ بھی نہیں بن سکا اور کسی قسم کی تعیناتی بھی نہیں ہو سکتی۔مذکورہ بالا مسائل سے نہ صرف عملہ متاثر ہو رہا ہے بلکہ طلبہ بھی پریشان ہیں۔ کیا ان مسائل پر قابو پایا جا سکے گا اس بارے میں انتظامیہ سنجیدہ نظر نہیں آ رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں