ساہیوال، سول ہسپتال کے ڈاکٹرز ہسپتال سے غائب، نجی پریکٹس جاری

ساہیوال(بیورورپورٹ)ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کےڈاکٹر 1 بجے کے بعد ہسپتال سے غائب ہو کر اپنے پرائیویٹ کلینکس پرجانے لگے، ڈاکٹر وں کی سہولت کے لیے مریضوں کو پرچی کا اجرا 12 بجے بند کر دیا جاتا ہے جبکہ ہسپتال کا ٹائم 9 بجے سے 4 بجے تک ہے ،مریضوں کو ڈسچارج ہونے پر دیا جانے والا ایک ہزا ر روپے بھی ہڑپ کر لیا جاتا ہے، صحت کارڈ پر ٹیسٹوں کی سہولت ہونے کے باوجود داخلہ سے قبل ہی مریضوں سے پرائیویٹ لیبارٹریوں پرٹیسٹ کروا لیے جاتے ہیں اور پیسے صحت کارڈ کے کھاتے میں ڈال دیے جاتے ہیں ۔ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال جواوکاڑہ اورپاکپتن کے سنگم پر ہے اورقریب کے اضلاع سے بھی لوگ علاج ومعالجہ کی سہولیات کیلئے یہاں کارخ کرتے ہیں ۔اس وقت ڈویژنل کوارٹرپرموجودہسپتال میں شرمناک بے قاعدگیاں پائی جارہی ہیں ۔ڈاکٹر ایک بجے کے بعد ہسپتال سے غائب ہو جاتے ہیں اور اپنے پرائیویٹ کلینک پر مریضوں کو آنے کاکہہ دیتے ہیں ۔ایک بجے کے بعد اکا دکا جونیئرڈاکٹر او پی ڈی میں موجود ہوتے ہیں جو مریضوں کو معمولی ادویات لکھ کر ٹرخا دیتے ہیں ۔مریضوں کو آپریشن کے بعد ڈسچارج کرتے وقت ملنے والا ایک ہزار روپیہ بھی نہیں دیا جارہا۔اس سلسلہ میں جب صحت کارڈ کاؤنٹر پر موجود ڈاکٹر سے پو چھا گیا کہ جب حکومت یہ سہولت دے رہی ہے تو آپ پیسے کیوں نہیں دیتے انہوں نے کہا کہ اس کا جواب تو ایم ایس ہی دے سکتا ہے ۔سیکرٹری ہیلتھ نے سرکاری ہسپتالوں کو ادائیگی سے روک رکھا ہے۔پریس کلب کی دو رکنی ٹیم نے گذشتہ روز ہسپتال کا وزٹ کیا اور مریض بن کر 2 بجے کے بعد آئی وارڈ میں چیک اپ کے لیے گئے تو آئی وارڈ میں کو ئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا ۔ڈیوٹی پر موجود ڈسپنسر نے بتایا کہ تمام ڈاکٹر ایک بجے ہی چلے جاتے ہیں۔اس وقت او پر وارڈ میں ایک لیڈی ڈاکٹر موجود ہے اس نے بھی عام سی دوا لکھ کر کی کہ اگر آپ نے آنکھیں چیک کروانی ہیں تو بدھ کے روز 9 بجے تک آئیں جب اسے کہا گیا کہ ہسپتال کا ٹائم چار بجے تک ہے تو اس نے جواب دیا کہ ڈاکٹر ایک بجے چلے جاتے ہیں۔ایمر جنسی وارڈ میں بھی ایک بجے سے دو بجے تک ڈاکٹر میسر نہیں۔ڈیوٹی پر موجود لیڈی گارڈ سے جب پو چھا کہ اگر اس دوران کو ئی ایمر جنسی مریض آجائے تو اس نے ردعمل دینے سے انکار کر دیا. ڈاکٹروں کے بارے میں جب اے ایس ایم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی ہسپتال چھوڑ کر جا چکے تھے ۔ان کے کمرے کا ہیٹر ان کی عدم موجودگی میں بھی چل رہا تھا ۔اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ سرکاری وسائل کو کس طرح لوٹا جاتا ہے۔ عوام کس سے اصلاح احوال کا مطالبہ کریں حکومت یا گورنس کہیں نظر نہیں آتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں