سانحہ ساہیوال کے بری ملزمان کی دوبارہ عدالت طلبی

ساہیوال(ایس این این) سانحہ ساہیوال کیس میں بری ہونے والے تمام ملزمان کو عدالت طلب کر لیا گیا۔لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی اپیل پر سانحہ ساہیوال کیس کے بری ہونے والے تمام ملزمان کو 21 دسمبر کو طلب کیا۔پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ سارا وقوعہ دنیا نے دیکھا،پھر ملزم بری کیسے ہو گئے۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ مدعی موقع کے گواہ اور زخمی گواہ سب منحرف ہو گئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ سب منحرف ہو گئے تو حکومت نے ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی ؟۔لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی اپیل پر مدعی مقدمہ جلیل سمیت کیس میں رہا ہونے والے تمام ملزمان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کیا۔عدالت نے متعلقہ ایس ایچ اوز کو آئندہ سماعت پر ملزمان کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ جب بھی ظلم کی انتہا کی بات آئے گی تو سانحہ ساہیوال لوگوں کے ذہنوں میں ضرور آئے گا۔یہ وہ سانحہ ہے جس میں معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کو قتل کر دیا گیا تھا۔بچوں کے سامنے ان کے والدین پر گولیاں برسانے کی ویڈیو پوری قوم نے دیکھی۔19 جنوری 2019ء کی سہ پہر سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کرکے میاں بیوی،اور ان کی بیٹی سمیت 4 افراد کو مار دیا تھا۔
کارروائی میں تین بچے بھی زخمی ہوئے تھے۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ساہیوال مقدمے میں نامزد تمام 6 ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کردیا تھا۔ اس واقعے کے وقت وزیراعظم بیرون ملک موجود تھے،عوام کے شدید ردعمل پر انہوں نے کہا تھا کہ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ قطر سے واپسی پر نہ صرف یہ کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی بلکہ میں پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لوں گا اور اس کی اصلاح کا آغاز کروں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں