انصاف ملے نہ ملے، جج سکولز میں ناظرہ قرآن کی مانیٹرنگ کریں گے

ساہیوال(ایس این این) انصاف ملے نہ ملے، ججز سکولز میں ناظرہ قرآن کی مانیٹرنگ کریں گے۔ حکومت پنجاب کی انوکھی منطق۔ ججز نے سرکاری و نجی سکولز کے دورے شروع کر دیے۔ زیر سمات مقدمات التوا میں جانے کا امکان۔ ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے ناظرہ قرآن کی کلاسسز کی مانیٹرنگ عدلیہ کے ججز کو سونپ دی ہے۔ ناظرہ قرآن لازمی ہونے کی بنا پر محکمہ نے ججز کو سکولز میں ناظر کی تعلیم کے مراحل کا نگران مقرر کر دیا ہے۔اس فیصلے سے جہاں برسوں سے لٹکے ہوئے مقدمات کے التوا کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے وہیں سکولز میں ججز کو پروٹوکول دینے میں وقت کے ضیاع کی بحث چھڑ چکی ہے۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق ہر دور میں اساتذہ کی کڑی مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ کبھی ریٹائرڈ فوجی اور کبھی ججز تلوار کی طرح سروں پر مسلط کر کے اساتذہ کو اپنے فرائض انجام دینے سے روکا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل سسٹم ہونے کے باوجود اساتذہ کو اے ای اوز کی جانب سے بار بار ڈاک بنا کر ہارڈ کاپی کی صورت میں بھیجنے کے احکامات بھی جاری کیے جاتے ہیں۔ عدالتوں میں برسوں سے لٹکے مقدمات کی مانیٹرنگ کرنے والا کوئی نہیں اور اساتذہ کی مانیٹرنگ کے لیے ججز کو مقرر کرنا حکومتی نااہلی کی مثال ہے۔ یہاں دلچسپ امر ہے کہ جو ججز سکولز میں مانیٹرنگ کے لیے آئیں گے خود ان کی عدالتوں میں بیک وقت کئی ایسے مقدمات زیر سماعت ہیں جن کا برسوں بعد بھی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں