لاہور سے اغواء ہونے والی لڑکیاں ساہیوال قحبہ خانہ سے برآمد، اندرونی کہانی

ساہیوال(بیورورپورٹ)ہنجروال لاہورسے اغواء ہونیوالی چارلڑکیوں کا معمہ حل،امیرہونے کیلئے گھرسے فرارہوئیں،اندرونی کہانی سامنے آگئی،ہنجروال سے امیر ہونے کے لیے گھر سے فرار ہوہنے والی چاروں لڑکیوں کے بارے میں مزید سنسنی خیز انکشا فات منظرعا م پرآگئے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ لڑکیوں کا والد عرفان نشی ہے اور اپنی دونوں بیویوں کو طلاق دے چکا ہے۔ چاروں لڑکیاں آپس میں سو تیلی بہنیں ہیں۔چاروں نے غریت سے تنگ آکر اور امیر ہونے کی خواہش میں گھر سے بھاگنے کا منصوبہ بنایا۔کنزا،انعم نے پڑوسی اکرم کی دو بیٹیوں عائشہ اور سمیرا کو سہانے خواب دکھا کر ساتھ ملایا اور میٹروٹرین دکھانے کے بہانے گھر سے غائب ہو گئیں۔میٹرو ٹرین پہنچ کر اپنے ایک محلہ دار عمر کو فون کر کے بلایا اور اسے اپنے ساتھ چلنے کا کہا عمر ڈر کر واپس آ گیا۔ پھر ایک رکشہ ڈرائیور قاسم کے ہتھے چڑھ گئیں تین چار گھنٹے شہر میں گھمانے کے بعد اپنے سالے شہزاد جو کہ گرین ٹاؤن لاہور میں قحبہ خانہ چلاتا ہے اور جس کا تعلق فرید نگر ساہیوال سے ہے کے حوالے کر دیں جس نے ان کے ساتھ زیادتی کی کو شش بھی کی ساہیوال لاکر شہزاد نے پاکپتن چوک میں قائم ایک قحبہ خانے کے مالک کے ہاتھوں چاروں لڑکیوں کو 12 لاکھ روپے میں فروخت کر دیا۔آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی کی سخت ہدایت پر ساہیوال پولیس نے ایکشن کافیصلہ کیا۔اغواء کا معمہ حل کرنے کیلئے ایس ایچ اوتھانہ غلہ منڈی ضلع ساہیوال انسپکٹرامدادحسین خان بلوچ کو خصوصی ٹاسک دیاگیاجنہوں نے اپنی خداددادصلاحیتوں اورپیشہ ورانہ امور،تجربہ اورجدید ٹیکنالوجی کوبروئے کارلاکرچند ہی گھنٹوں میں چاروں لڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کروالیا۔پولیس نے ملوث ملزموں شہزاد، قاسم،نعیم،آصف، شوکت علی، زینت بی بی اور شازیہ کو گرفتار کر لیا جنہیں ہنجروال پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔لڑکیوں نے جان کے خدشہ کے پیش نظر والدین کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا جس پر انہیں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے سپرد کر دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں