ساہیوال، راوی کا کٹاؤ، 10 دیہات دریا برد ہونے کا خدشہ

ساہیوال(ایس این این) نور شاہ کے قریب داد بلوچ گاؤں کو دریائے راوی نے کٹاؤ شروع کر دیا ہے جس سے دس دیہات کے دریا برد ہونے کا خطرہ ہے۔تفصیلات کے مطابق عید کے روز دریائے راوی میں سیلابی پانی کا ریلا آجانے کے سبب دریائے راوی نے کٹاؤ شروع کر دیا ہے اور درجنوں ایکڑ کھڑی فصلوں کو دریا برد کر نے کے بعد دریا نے کٹاؤ کا رخ داد بلوچ گاؤں کی طرف جاری ہے۔داد بلوچ گائوں کے دریا برد ہونے کی صورت میں مزید دس دیہات کے دریا برد ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔دریا نے اس وقت داد بلوچ آبادی کے ایک فوڈ انسپکٹر شہامند بلوچ کے گھر کو کٹاؤ شروع کررکھا ہے ۔گائوں کے مکینوں نے گاؤں کو خالی کر دیا ہے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں جن دیگر دیہات کے دریا برد ہونے کا خطرہ ہے ان میں کرم بلوچ، شہامند بلوچ ،لونگاں والی ، کڑیا ل ،مراد شاہ اور قصبہ نور شاہ کی اضافی پانچ آبادیاں بھی دریا کے کٹاؤ سے متا ثر ہونگی۔
متا ثرہ دیہاتیوں نے محمد خاں بلوچ کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ کٹاؤ کے تدارک کے لئے دریا میں پتھر ڈال کر کٹائو کو روکا جائے ورنہ سینکڑوں ایکڑکھڑی فصلیں تباہ ہوجائیں گی تین گورنمنٹ کے ہائی سکول اور چار مڈل اور پرائمری سکول اور دو ہیلتھ سینٹر بھی دریا برد ہوجائیں گے۔اس لئے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر نے چاہئیں اور فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں ۔ضلعی انتظامیہ کی خاموشی سے متا ثرہ علاقوں کے مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور کٹاؤ کے شروع ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی خاموشی مکینوں کے لئے باعث تعجب ہے اس لیے وزیرا علیٰ پنجاب اس کا فوری نوٹس لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں