ساہیوال، ٹیچر سے رشوت لینے والے کو شاباش، ٹیچر معطل

ساہیوال(ایس این این) ڈسٹر کٹ ایجوکیشن اتھارٹی ساہیوال کے آفس میں کلرک کے رشوت مانگنے کی شکایت سکول ٹیچر کو مہنگی پڑ گئی سی ای او نے سکول ٹیچرکو معطل کر دیا ڈپٹی کمشنر نے معاملہ کی انکوائری کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ ہائی سکول 95۔نائن ایل کے ٹیچر محمد آصف اقبال نی2009میں گریجویشن کی بنیاد پر نوکری حاصل کی اسکے بعد 2014میں ایم سی ایس کی ڈگری حاصل کر لی اور ایم سی ایس کی ڈگر ی کی بنیاد پر تعلیمی الاؤنس دینے کی در خواست دی تو کلرک محمد کاشف نے در خواست پر کارروائی کے لیے پانچ ہزار روپے آفس کی مقررہ فی فائل رشوت طلب کی محمد آصف اقبال نے رشوت دینے سے انکار کر دیا اورسی ای او ایجوکیشن اتھارٹی ڈاکٹر محمد ارشد سے کلرک کی رشوت طلب کر نے کی شکایت کی تو سی ای او نے بتایا کہ حکومت نی2014 میں تعلیمی الائونس ختم کر دیا ہے اور اسکی تعلیمی الائونس دینے کی در خواست بھی مسترد کر دی جس کے بعد ایک اور سکول ٹیچر سلیمان ریاض نے دفتر کے ماحول کے مطابق رشوت کی ادائیگی کے بعد تعلیمی الاؤنس ایم سی ایس کی بنیاد پر در خواست گزاری جسے اکتوبر 2020میں منظور کر کے 2017کی تعلیمی ڈگری کی بنیاد پر الاؤنس کی منظوری دے دی ۔جس پر ٹیچرآصف اقبال نے کلرک کی شکایت کی تو سی ای او ایجوکیشن نے شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے سکول ٹیچر محمد آصف اقبال کو معطل کر دیا اور کلرک کو شاباش دی ۔جب یہ معاملہ ڈپٹی کمشنر ساہیوال کے نوٹس میں لایا گیا تو ڈپٹی کمشنر ساہیوال نے معاملہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو انکوائری آفیسر مقرر کر دیا ہے اور متا ثرہ ٹیچر کو یقین دلایا کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں