ساہیوال، جسم فروشی سے انکار، لڑکی کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج

ساہیوال(بیورورپورٹ)جسم فروشی سے انکار دیہاتی خاندان کا جرم بن گیا ،جھوٹا مقدمہ درج کرکے لڑکی کو اغواء کرنے کی کوشش ،متاثرہ خاندان کا وزیراعظم،وزیر اعلیٰ،چیف جسٹس سے نوٹس لینے اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ ۔نواحی گاؤں 55/5ایل کے رہائشی قیصر اعجاز نے ڈی پی او ساہیوال کو درخواست گزاری کہ میری بیٹی مہوش کی شادی فتح شیر کالونی کے عثمان ماچھی کے ساتھ ہوئی اور شادی کے تیسرے دن عثمان اور اسکا بھائی منیر جوکہ سپلائی کا کام کرتاہے میری بیٹی کو دھوکہ سے مشہور زمانہ شیخ کلیم کی کوٹھی پر لے گیا جہاں شیخ کلیم مختلف امراء کو بلواکر میری بیٹی کو جسم فروشی پر مجبور کرتا رہا انکار پر تشدد کا نشانہ بناتا رہا دودن شیخ کلیم نے میری بیٹی کو اپنی تحویل میں رکھا اور جسم فروشی کی ہامی بھرنے پر عثمان کے گھر جانے دیا جہاں سے موقع پاکر ہمیں تمام صورتحال کی اطلاع بیٹی نے کردی ہم بہلا پھسلا کر بیٹی کو گاؤں لے آئے اور بعد میں عثمان وغیرہ کو خوب لعن طعن کی اور عزت کے مارے خاموشی اختیار کرلی جسکے بعد عثمان ماچھی،منیرکلیم،اقبال سگھلہ داماد کلیم ،شیخ کلیم اور تین کس نامعلوم دو گاڑیوں پر مسلح ہوکر آگئے اور زبردستی مہوش کو اٹھا کر لے جانے لگے ۔شور واویلا ہونے پر اہل دیہہ اکٹھے ہوگئے پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی جنھوں نے مقامی سابق چیئرمین کے ڈیرے پر معاملہ رفع دفع کرواکر مہوش کو لے جانے سے بچا لیا شیخ کلیم اور منیر وغیرہ نے خادم مسجد کو بھی زدوکوب کیا شیخ کلیم،منیر اور عثمان ماچھی جسم فروشی کا بہت بڑا نیٹ ورک چلاتے ہیں اور انکے بڑے بڑے لوگوں سے تعلقات ہیں جھانسہ اور دھوکہ دہی سے عزت دار لوگوں کی بچیوں کو چنگل میں پھنسا کر نکاح کرکے ان سے جسم فروشی کرواتے ہیں انکے بااثر لوگوں اورسرکاری ملازمین سے بھی تعلقات ہیں ان سے ہمیں جان کا خطرہ ہے بہت سے گھرانوں کی زندگیاں اسی طرح برباد کرچکے ہیں ہمیں تحفظ دے کر انکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔مہوش کی طرف سے جسم فروشی نہ کرنے پر انھوں نے تھانہ فتح شیر کے ایس ایچ او اور اسکے کارخاص ٹی اے ایس آئی عرفان ذاکرسے ملی بھگت کرکے ہمارے پورے خاندان پر چوری کاسراسر جھوٹا اور فرضی مقدمہ درج کردیا۔یہ کہیں بھی ہماری دادرسی نہیں ہونے دے رہے ہماری وزیر اعظم،وزیراعلیٰ ،چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کی اپیل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں