ساہیوال، جھوٹا مقدمہ خارج ہونے پر نمبردار کا محنت کش پر 1 اور مقدمہ

ساہیوال(ڈسٹرکٹ رپورٹر)جھوٹا مقدمہ خارج ہونے پر دفعہ 182 کی کارروائی کرنے کا انتقام، نمبردار یٰسین نے محنت کش پر جعلی وقوعہ بنا کر ایک اور مقدمہ درج کروا دیا۔دوسری جانب مدعی مقدمہ کے بھائی نے بھی مقدمہ کے جھوٹے ہونے کا بیان دے دیا۔تفصیلات کے مطابق 122/9ایل کا رہائشی محمد ریاض کے مطابق یٰسین نمبردار نے اپنے ساتھیوں اور خاتون امیراں بی بی کے ساتھ مل کر میرے خلاف مختلف مقدمات درج کروائے ہیں جنہیں تفتیش کرکے پولیس کے اعلیٰ افسران نے خارج کر دیئے ہیں اور موصوف نے اب پھر امیراں بی بی نامی خاتون سے مل کر مقدمہ درج کروا دیا ہے۔جس میں امیراں بی بی خاتون نے سر کے بال کاٹنے کا الزام لگایا ہے۔دوسری طرف اسی مقدمہ میں امیراں بی بی کے بھائی نے بھی مقدمہ کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے کر ویڈیو بیان جاری کر دیا ہے۔واقعہ کا مؤقف لینے کیلیے تفتیشی افسر سے رابطہ کیا گیا تو پولیس نے کہا کہ ابھی تک ہم نے واقعہ کی تفتیش نہیں کی۔ایک سوال ”تفتیش کیئے بغیر مقدمہ کیسے درج کر دیا”کے جواب میں پولیس نے کہا کہ مقدمہ درج کروانا مدعی کا حق ہے،اگر مقدمہ جھوٹا ہوا تو خارج کر دیں گے۔جبکہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی طرف سے واضع احکامات ہیں کہ کوئی بھی مقدمہ درج کرنے سے پہلے اصل حقائق تک پہنچنا نہایت ضروری ہے۔پولیس کا تفتیش کیئے بغیر مقدمہ درج کرنا تشویشناک بات ہے۔روایتی تفتیش کے طریقہ کار اختیار کرکے اصل حقائق تک پہنچے بغیر مقدمات درج کرنے سے کئی بے گناہ شہری جیل کی سلاخوں پیچھے زندگی بسر کرتے ہیں۔ متاثرہ شخص نے آئی جی پنجاب پولیس،آر پی او ساہیوال اور ڈی پی او ساہیوال سے واقعہ کا نوٹس لے کر جھوٹا مقدمہ خارج کرنے اور واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں