ساہیوال، سول ہسپتال میں نوسر باز مریضوں کو لوٹنے لگے

ساہیوال(بیورورپورٹ)ٹیچنگ ہسپتال میں ٹھگوں کے ڈیرے۔ سیکیورٹی گارڈز وارداتوں میں ملوث۔ ہسپتال انتظامیہ کی پراسرار خاموشی لواحقین کے لیے باعث تشویش۔ سرجیکل وارڈ میں دروازے پر تعینات شخص نے مریض کے والدین کو نقدی اور موبائل سے محروم کر دیا۔ واردات سستی ادویات دلوانے کی آ ڑ میں کی گئی۔سیکیوریٹی گارڈ نے نرسوں کو ذمہ دار قرار دے دیا۔گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال میں لاقانونیت کے واقعات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو چکا ہے۔ فتح شیر کالونی کے رہائشی ظہیر کا نوجوان بیٹا ذیشان سرجیکل وارڈ2 میں داخل ہے۔ ظہیر اپنی زوجہ کے ہمراہ وہاں موجود تھا۔ اسی اثناء میں وارڈ کے دوسرے دروازے پر تعینات شخص نے چابی سے تالہ کھولتے ہوئے ایک نامعلوم شخص کو اندر بلوا لیا۔ جس نے ظہیر کی زوجہ کو مریض کے لیے نصف قیمت پر ادویات دلانے کا جھانسہ دیتے ہوئے 1500 روپئے ہتھیا لیے۔ ادویات منگوانے کے لیے کال کے بہانے خاتون سے 30 ہزار روپے مالیتی موبائل لے کر تھوڑے فاصلے پر چلا گیا۔وہاں موجود ظہیر سے کال کے بہانے اس کا موبائیل بھی ہتھیا کر رفوچکر ہو گیا۔ وارڈ کے دروازے پر تعینات سیکیورٹی گارڈ مختار احمد سے دوسرے دروازے پر تعینات شخص بارے پوچھا گیا جس نے نرسوں کا نام لے دیا۔ واردات کا نشانہ بننے والے خاندان کے مطابق دروازے پر تعینات شخص نے چابی سے تالہ کھول کر واردات کرنے والے کو اندر بلایا۔ ذرائع کے مطابق ان دنوں گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال میں لاقانونیت عروج پر ہے۔ مجرمانہ ذہنیت کے حامل دیہاتی افراد کو بلا تصدیق سیکیورٹی گارڈز کی وردی پہنا کر ہسپتال میں تعینات کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے ساتھ دیگر جرائم پیشہ افراد کو شامل کر رکھاہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں ڈویژن کے سب سے بڑے ہسپتال میں بچوں کے اغوا کے واقعات۔ شہریوں سے سائیکل سٹینڈ انتظامیہ کی جبری بھتہ وصولی۔ وارڈ میں داخل ہونے کیلئے سیکیورٹی گارڈوں کی نزرانہ وصولی۔ لواحقین پر تشدد۔ ہسپتال کی عمارت کے مختلف حصوں کو غیر اخلاقی سرگرمیوں کیلئے استعمال میں لانے کے واقعات شامل ہیں۔ ساہیوال میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر زاہد کمال صدیقی۔ میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر عبدالوحید۔ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد کا شمار انتظامی صلاحیتوں کے حامل چند گنے چنے پروفیشنلز میں ہوتا ہے اس کے باوجود ہسپتال کے معاملات شہریوں کی فہم سے بالاتر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں