ساہیوال، جیل پولیس کا اپنے پیٹی بھائی پروحشیانہ تشدد

ساہیوال(بیورورپورٹ)ہائی سیکیورٹی جیل عقوبت خانے میں تبدیل،جیل افسران کا ماتحت پر سر عام وحشیانہ تشدد،سڑک پر لٹا کر ٹھڈوں سے فٹ بال کھیلتے رہے، کانسٹیبل سعید کا تبادلہ ہائی سیکیورٹی جیل کیا گیا، جوائننگ دینے پہنچا تو گارڈز نے سپرٹنڈنٹ کا حکم کہتے ہوئے اندر جانے سے روک دیا، استفسار پر لائین افسر کی موجودگی میں تشدد کرنے لگے،1122کو طبی امداد فراہم کرنے سے بھی روکے رکھا۔ ڈی آئی جی کامران انجم موقف دینے سے پہلو تہی کرنے لگے۔شہر اور پوش رہائشی علاقے کے وسط میں واقع ہائی سیکیورٹی جیل آ ے روز کسی نا کسی سکینڈل کی زد میں رہتی ہے،نازی جنگی کیمپوں کی طرز پر متشدد جیل حکام اپنے ہی ماتحتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتے رہتے ہیں جیل پولیس کا اہلکار سعید ڈی آئی جی کامران انجم کے دفتر میں ڈیوٹی کر رہا تھاکانسٹیبل سعیدکا تبادلہ ہائی سیکیورٹی جیل کر دیا گیاوقوعہ کے وقت کانسٹیبل جوائیننگ دینے جیل کے گیٹ پر پہنچا تو اسے اندر داخل ہونے سے روک دیا گیاوجہ پوچھنے پر بتایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے اسے لینے سے انکار کردیا ہے حکمنامہ مانگنے پر گارڈز لائین افسر کو اطلاع کرتے ہوئے کانسٹیبل کو سڑک پر لٹا کر تشدد کرنے لگے۔ ہائی سیکیورٹی جیل کے افسران اصغر منیر،عامر صدیقی،سراج اپنی موجودگی میں اپنے ماتحت پر وحشیانہ تشدد کرواتے رہے عینی شاہدین کے مطابق کانسٹیبل سعید کو فٹ بال بنا کر ٹھڈوں سے کھیلا جاتا رہاکانسٹیبل کی دردناک چیخوں سے علاقہ مکین اور راہگیر خوفزدہ ہو گئے جنہیں زبردستی وہاں سے بھگا دیا گیا۔شہری کی اطلاع پر پہنچنے والے موٹر سائیکل سوار ریسکیو اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کرنے سے بھی روکے رکھا مضروب کو 1122نے سرکاری ہسپتال منتقل کر دیا جہاں اسے کڑی نگرانی میں رکھا گیا ہے مضروب کانسٹیبل کا موبائل فون پولیس اہلکاروں نے قبضہ میں لیتے ہوئے ملاقات پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر رکھی ہے ذرائع کے مطابق کانسٹیبل پر مختلف اطراف سے دباؤ ڈالا جارہا ہے جبکہ ڈی آئی جی کامران انجم موقف دینے سے مسلسل پہلو تہی کر رہے ہیں۔عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب سے ہائی سیکیورٹی جیل کے افسران کے نفسیاتی علاج اور اخلاقی تربیت کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں