بہترین کون ——- شاہد انوار شیرازی

( شاہد انور شیرازی بچوں کے ادیب ہیں اور مردان میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں)

اتنی تیز دھوپ میں وہ بچہ امرود کی بھری ریڑھی کھینچے دینا و مافیہا سے بے خبر’’ پچاس روپے کلّو،پچاس روپے کلّو‘‘کی آوازیں لگا کر امرود بیچ رہا تھا۔ بارش میں گھر سے نکل کر بازاروں میں گھومنا میری فطرت بن چکی ہے۔ کار میں بیٹھے اور کبھی کبھی پیدل بارش کے نظاروں سے لطف اندوز ہونا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔
آج بھی اتوار کے دن چھٹی کے باعث بازار میں گھوم رہا تھا۔ بچے کی آواز سے سارا بازار متوجہ تھا مگر بارش کی وجہ سے گاہگ اس کی طرف نہیں آتے، پیدل چلنے وال، دکانوں کے تھڑوں پہ کھڑے بارش کی شدّت میں کمی کے انتظار میں تھے کچھ لوگ بارش سے خود کو بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ جبکہ امرود بیچنے والا بچہ اپنی دھن میں’’ امرود تازہ امرود، پچاس روپے کلّو‘‘ کی آوازیں لگا رہا تھا۔ میں نے کار روک لی ۔ میں اپنے ماضی کی تلخ یادوں میں کھو گیا۔
میں ایک غریب ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ والد محنت مزدوری کر کے مِرا اور میری ماں کا پیٹ پالتے تھے۔ میرے ابّو ریڑھی میں فروٹ بیچا کرتے تھے۔ وہ روزانہ صبح سویرے اُٹھ کر نماز فجر کے فوراََ بعد ناشتا کرتے اور فروٹ منڈی جا کر بولی میں فروٹ خرید کر گھر لاتے ۔ پھل گرد آلود ہوتے اس لیے امّی فروٹ کو پانی سے دھو کر ریڑھی میں لگاتیں اور ابّو ریڑھی نکال کر بازار اور گلی گلی گھوم کر فروٹ بیچنے کی آوازیں لگاتے۔ رات گئے تک فروٹ بیچ کر ابّو گھر لوٹ کر آتے۔ اکثر ابّو کے آنے سے پہلے میں سو جاتا تھا کیونکہ مجھے صبح سکول بھی جانا ہوتا تھا۔
میں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا جب ابّو کو بخار نے آ لیا، وہ مسلسل تین دن تک بستر سے لگے رہے۔ سرکاری پسپتال سے علاج کرایا مگر ان کی طبیعت میں فرق نہ آ سکا۔ اِدھر گھر میں فاقوں نے ڈیرے جمائے۔ گھر کے حالات دیکھ کر ابّو چار و نا چار فروٹ منڈی جا کر فروٹ ادھار خرید لائے اور ریڑھی میں سجا کر بازار کی طرف بیچنے نکل پڑے۔اس دن بارش بھی زور سے جاری تھی مگر ابّو تھے کہ امّی کی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔ امّی نے منع کیا مگر ابّو ریڑھی نکال کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔تیز بخار نے ابّو کی صحت پر بُرا اثر ڈالا۔ دوپہر کو ابّو کی لاش ریڑھی سمیت گھر کے دروازے پر لائی گئی۔
وہ دن ہمارے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔ امّی بال نوچ نوچ کر مجھے سینے سے لگا کر رو رہی تھیں۔ امّی کی حالت قابلِ رحم تھی۔ میں امّی کی حالت دیکھ کر دیوانہ وار رونے لگا۔ لوگوں نے تسلیاں دیں۔ ابّو کو غسّل دیا گیا اور شام کو ابّو کا جنازہ گھر سے نکلا۔
ابّو کے کفن دفن کے بعد امّی نے اپنی کمزور کاندھوں پر مضبوط ارادواں کے بل محنت شروع کی۔ سردیوں کے موسم میں سارا دم مالٹوں اور سنگتروں کے چھلکے باریک باریک کاٹ کر دھوپ میں خشک کر لیتیں اور خشک ہونے پر دکان داروں کے ہاتھ بیچ دیتیں۔
گرمیوں کے موسم میں آموں کے چھلکے اکھٹے کرتیں اور دھوپ میں سوکھا کر دکان داروں کو بیچ دیتیں جبکہ گٹھلیاں پیس کر پنساری کے ہاتھوں فروخت کرتیں، یوں ہمارا گزر بسر ہو جاتا۔ میں امّی کی محنت مشقت دیکھ کر رات کو جب پڑھنے کے لیے بیٹھتا تو چپکے چپکے خوب روتا، رونے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا۔ مگر میں کبھی شکوے کا لفظ بھی زبان پر نہیں لایا۔ میری امّی مجھے پڑھ لکھ کر بڑا آدمی دیکھنا چاہتی تھیں۔ میری بھی آرزو تھی کہ پڑھوں اور اپنی ماں کا سہارا بنوں۔ کیونکہ مجھے احساس تھا کہ میری امّی کی مجھ سے بہت سی امیدیں بندھی ہوئی ہیں۔
میری امّی کہا کرتی تھیں کہ علم بڑی دولت ہے اور تعلیم حاصل کر کے عزّت اور وقار حاصل کیا جا سکتا ہے۔اگر مقام بناناہے تو علم حاصل کرو۔ امّی کی نصیحتیں میرے لیے مشعل راہ کا کام دیتیں، میں نے ہمیشہ امّی کی بات غور سے سنی اور عمل بھی کیا۔ اساتذہ بھی میری محنت سے خوش تھے۔
وقت پَر لگا کر آگے بڑھ رہا تھا، امّی کی دُعائیں اور میری محنت رنگ لائی اور میں میٹرک میں فرسٹ ڈویژن سے پاس ہو گیا۔ مجھے ’’ایف اے‘‘ میں آسانی سے داخلہ مل گیا اور پچھلی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے میں محنت سے ایف اے بھی فرسٹ ڈویژن میں پاس کر لیا۔ امّی کی خوشی قابل دید تھی۔ اُنھوں نے چاوّل پکا کر صدقہ کیے۔امّی میرے اور گھر کے خرچے برداشت کرتی رہیں۔ امّی اتنی محنت مت کیا کریں، اب آپ زیادہ محنت کر کے بیمار ہو جاتیں ہیں۔ میں امّی سے کہا کرتا۔’’ نہیں بیٹے نہیں۔۔۔اب ہمارے دن پھرنے والے ہیں ۔ وہ دن دور نہیں جب تُو پڑھ لکھ کر بڑ اافسر بن جائے گا ‘‘ میں ان کی باتیں سُن کر خاموش ہو جاتا ۔ میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ میں الیکٹریشن کا کام بھی سیکھ گیا۔جب کسی کی محلے میں بجلی خراب ہوتی تو میں جا کر ٹھیک کر دیتا اور مجھے اس کا معاوضہ ملتا۔ اب میں امی کے ساتھ ہاتھ بھی بٹانے لگا۔میں نے تھرائیر میں داخلہ بھی لیا اور خوب محنت کر کے بی اے فرسٹ ڈویژن میں پاس کر گیا۔ بی اے کرنے کے فوراََ بعد میں نے سی ایس ایس کے لیے دن رات محنت کرنا شروع کی اور مزید ایک سال تک کتابوں کے مطالعہ میں گزارا۔ سی ایس ایس امتحان میں بھی اللہ نے مجھے کامیابی عطا کی اور اب میں امی کی دعائوں سے ایک سرکاری محکمے میں افسر کی کرسی سنبھالے ہوئے ہوں۔
جب میں حقیقت کی دنیا میں آگیا تو بارش کافی تیز ہو گئی تھی۔ بچے کی حالت دیدنی تھی وہ تیزی سے ریڑھی کھینچے جا رہا تھا مگر اسے کہیںایسی جگہ میّسر نہیں آئی جہاں وہ خود کو اور ریڑھی کو بارش سے بچا سکے۔’’یہ لو چھتری‘‘۔۔۔ ایک بچہ ، ریڑھی والے بچے سے مخاطب ہوا۔ ’’میں ساتھ والی گلی میں رہتا ہوں ۔۔۔ میں بھاگ کر چلا گھر پہنچ جائوں گا ۔ تم بارش سے خود کو چھتری سے بچانا‘‘ بچّہ چھتری اسے تھما کر بھاگ گیا۔ میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آ گئے کیونکہ جس بچّے نے ریڑھی والے بچّے کو چھتری دی، وہ ہمارے محلے کے رمضان چاچو کا اکلوتا بیٹا تھا، اور وہ بہت غریب تھے۔ رمضان چاچو پچھلے دو مہینے سے بستر پر تھے کیونکہ انھیں ہیپاٹائٹس کی بیماری تھی۔ اور رمضان چاچو کا یہ بیٹا صبح سکول جاتا اور سکول سے واپس آ کر چھوٹا سا بکسہ لٹکا کر لوگوں کے جوتے پالش کرتا اور یہ بچّہ اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔
چھتری لے کر ریڑھی والا بچہ تشکّر آمیز نگاہون سے اس کی طرف دیکھتا رہا جبکہ رمضان چاچو کا بیٹا یہ جا وہ جا۔
میں یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا یہان تک کہ بارش زور شور سے ہو رہی تھی۔ ریڑھی والے بچے نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ہوا میں لہرا کر خشک کرنے کی ناکام کوشش کی اور سر پر چھتری رکھ کر ریڑھی کے اوپر رکسئین کے نیچے ہاتھ ڈال کر کتاب نکالی ۔ کتاب شاپر میں بند تھی اس لیے بھیگنے سے بچ گئی تھی۔ میں سے غور سے دیکھا تو اس کے ٹائٹل پر لکھا تھا ’’ریاضی برائے جماعت پنجم‘‘ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بچے کے نزدیک پہنچا۔
’’بیٹے تُو پڑھتا ہے؟‘‘ میں نے سوالیہ انداز سے پوچھا۔
’’جی میں پانچویں جماعت میں پڑھتا ہوں‘‘ اس نے مختصر سا جواب دیا۔ــ’
’تمھارے ابّو؟‘‘ جی وہ پچھلے مہینے اللہ کو پیارے ہو گئے۔اب میں ان کی جگہ ریڑھی لگا کر مزدوری کرتا ہوں‘‘ اس نے معصومیت سے کہا۔
’’ اور یہ کتاب؟‘‘میں نے استفسار کیا۔
’’ کل میرا ریاضی کا ٹیسٹ ہے اس لیے گھر سے نکلتے وقت کتاب بھی ساتھ لے آیا، جب جب جہاں جہاں وقت ملتا ہے ریڑھی کھڑی کر کے ریاضی کے سوالات حل کرتا ہوں‘‘ بچّے نے تفصیل بتا دی۔
بچے کی باتیں سن کر میں سوچ میں پڑ گیا ۔
میں بہتر ہوں، جس نے محنت شاقہ سے غربت کے باوجود اتنی اچھی ملازمت حاصل کی یا وہ بچّہ جس نے ریڑھی والے بچّے کو غربت کے باوجود اپنی چھتری تھما دی یا یہ بچّہ جو اتنی تیز بارش میں مزدوری کے ساتھ ساتھ پڑھ بھی رہا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں