ساہیوال، جعلی اور انگوٹھا چھاپ صحافیوں کی بھرمار، انتظامیہ خاموش

ساہیوال(ایس این این)ساہیوال، چیچہ وطنی اور گردونواح میں جعلی صحافیوں کی بھرمار ، اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے چند سرکاری ملازمین بھی صحافی بن گئے۔ موٹر سائیکلوں ، گاڑیوں اور رکشوں پر بھی پریس کی نمبر پلیٹیں سج گئیں۔ انتظامیہ خاموش تماشائی۔تفصیلات کے مطابق ساہیوال میں جعلی صحافی متحرک ، سرکاری محکموں ، تعلیمی اداروں ، و دیگر محکموں میں جاکر سرکاری اہلکاروں کو بے جا پریشان کرنے لگے، اور بلیک میل کرکے مختلف قسم کے فائدے اٹھانے کی کوشش کرنے لگے۔ساہیوال اور چیچہ وطنی میں انگوٹھا چھاپ حضرات نے سستے اور زرد صحافت کے علم بردار اخبارات کے کارڈز اور مائیک حاصل کر رکھے ہیں۔ اپنی جعلی صحافتی سینہ زوری سے پڑھے لکھے اور مقتدر لوگوں کو ہراساں کر کے ان سے فوائد حاصل کرنے میں مصروف یہ صحافت کی ڈگری سے محروم عناصر نہ صرف اصل صحافیوں کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ صحافت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ شعبہ تعلقات عامہ ان کی حقیقت جاننے کے باوجود آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے۔ مرچوں کی چکی والے، میڈیکل سٹور مالکان، سمال انڈسٹریز کے چھوٹے صنعت کار بھی اب ان کی بلیک میلنگ کے لیے چھوٹے اخبارات کے پریس کارڈز خرید رہے ہیں اور خود بھی بلیک میلکنگ کے اس دھندے میں شریک ہو رہے ہیں۔ ساہیوال کے چند تعلیمی اداروں نے بھی اپنے کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے صحافت کی آڑ لے رکھی ہے۔ ساہیوال میں کچھ سرکاری ملازمین بھی نام نہاد صحافی بن کر اپنے ہی محکموں کو بلیک میل کرنے میں مصروف اور صحافت جیسے مقدس پیشہ کو بدنام کرکے اپنے ہی سرکاری محکمے کے افسران کو بلیک میں کرکے مختلف قسم کے فائدے اٹھانے لگے۔سرکاری ڈیوٹی کے اوقات میں یہ چند سرکاری ملازمین صحافی بن کرمختلف قسم کی پریس کانفرنس ، سرکاری و نجی اداروں میں مختلف قسم کی تقریب اور خاص طور پر سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں کی پریس کانفرنس اور جلسے جلسوں میں شرکت کرکے ان کی پریس کوریج کرتے ہیں۔ یہ سرکاری ملازمین اپنی سرکاری ملازمت کے ساتھ بھی خیانت کر رہے ہیں صبح سویرے دفتر میں حاضری لگا کر سار ا دن کیلئے غائب ہو جاتے ہیں اپنے ذاتی کام نمٹاتے ہیں انہیں کوئی پوچھنے ولا نہیں ہے کیونکہ ان سرکاری ملازمین نے صحافت کی آڑ لی ہوئی ہے اسی وجہ سے ان کے افسران ان سے ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ ہمارے خلاف اخبار میں خبر نہ شائع کر دیں ۔ساہیوال کے سماجی ، کاروباری ، عوامی اور سرکاری حلقوں نے کہا ہے کہ ہمیں ایسے عناصر کی نشاندہی کرکے ان کی حوصلہ شکنی کرنی ہو گی ،جو صحافی خود سرکاری ملازمین ہو کر صحافت کی آڑ لے کر اپنے ہی محکموں میں کرپشن کر رہے ہیں اور انہیں کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ۔ سرکاری ملازم ہو کر صحافی بن کر صحافت کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں وہ عوام کے مسائل کیا اجاگر کریں گے۔حکومت کو چائیے کہ ایسے ملازمین کو سرکاری ملازمت سے فوری طور پر نکالنے کے احکامات جاری کریں اور انتظامیہ کو بھی چاہئے کہ ان نام نہاد صحافیوں کے خلاف فوری کاروائی کریں ، ایسے کرپٹ صحافیوں کا داخلہ سرکاری اداروں میں ممنوع کیا جائے تاکہ صحافت پر عوام کا اعتماد قائم رہے۔ شعبہ صحافت میں پڑھے لکھے ،ایماندار اور خلوص نیت سے کام کرنے والوں کی اشد ضرورت ہے۔عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ جہاں ملک میں کسی بھی ملازمت کے لیے میرٹ مقرر ہے اسی طرح صحافت کے لیے بھی میرٹ مقرر کیا جائے اور کالی بھیڑوں کو اس پیشے میں آنے سے روکا جائے۔دوسری جانب کئی سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے بھی سستی شہرت کے لیے ایسی صحافیوں کو بطور گرگا رکھا ہوا ہے اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں