ساہیوال، نجی لا کالج کا پرنسپل جعلی ڈگریاں بانٹنے لگا

ساہیوال(بیورورپورٹ)ساہیوال میں وکالت کی جعلی ڈگریاں فراہم کرنے والے لا کالج کا انکشاف،کمانڈ لا کالج کی آڑ میں وکالت کی جعلی ڈگریاں فروخت کر نے کا انکشاف،کالج پرنسپل کی اپنی ڈگری بھی جعلی نکلی،پنجاب بار کونسل نے جعلسازی سے حاصل شدہ ڈگری پر جاری لائسنس منسوح کر دیا۔وحید الحق جعلسازی کے دھندے کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے مختلف افسران کو کالج بلواے رکھتا تھا،ساہیوال میں وکالت کے پیشہ کی جعلی ڈگریوں کی خرید و فروخت کا بڑا سکینڈل منظرعام پر آ گیا،چوہدری وحید الحق نے لیاقت روڈ پر کمانڈ لا کالج کے نام سے بورڈ لگا کر شاندار دفتر بنا رکھا تھا جہاں ضروت مند نو جوانوں کو منہ مانگے داموں لا کی ڈگریاں فروخت کی جا رہی تھیں،انتھائی کم فیس پر سینکڑوں ضروت مندوں کو داخلے دے کر قانون کی تعلیم کی بجائے سا لانہ امتحان میں یقینی کامیابی کا لالچ دے کر بھاری رقومات لی جاتی تھیں۔کرایے کے ایک کمرے سے ٹیوشن پڑھانے والے وحید الحق نے سینکڑوں طلبہ و طالبات سے کروڑوں روپے فیسوں کی مد میں وصول کرتے ہوئے چند ہی سالوں میں ایکڑ وں پر ایک شاندار عمارت کھڑی کر لی۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے غیر منظور شدہ تعلیمی اداروں کی اسناد کی لوٹ سیل لگا دی، گزشتہ دنوں پنجاب بار کونسل نے وحید الحق کی میگا کر پشن اور جعلسازی کے نیٹ ورک کے سرغنہ کے وکالت کی ڈگری کو جعلی قرار دیتے ہوئے وحید الحق کا لائسنس منسوخ کر دیا۔ضلع کچری میں وحید الحق سے ڈگریاں لینے والے وکلا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔نوجوان وکلا نے حکمت عملی طے کرنے کے لئے سر جو ڑ لئے ہیں۔وحید الحق نے رابطہ کر نے پر کوئی بات کرنے سے انکار کردیا۔عوامی سماجی حلقوں کی جانب سے نو جوان نسل کے مستقبل کو تباہ کرنے والے مرکزی کردار کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں