ڈاکٹر ساجد مصطفیٰ کا اغوا،پی ایم اے کا تاوان کی واپسی کا مطالبہ

ساہیوال(بیورورپورٹ)ساہیوال میڈیکل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر و معروف چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر ساجد مصطفی کو تاوان کی ادائیگی کے بعد رہائی ملنے کا انکشاف،پولیس ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام۔تفصیل کے مطابق معروف چائلڈ سپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر ساجد مصطفی کو 25 جنوری کی شام ان کے کلینک کے قریب سے تین مسلح افراد نے اغواء کر لیا تھا اغوا کے بعد ملزمان نے ڈاکٹرکی رہائی کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا پولیس نے ملزمان کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کیا مگر پولیس ملزمان کا سراغ لگانے اور انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی اغوا کے دوران ملزمان اہل خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے اور رہائی کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے تاوان کی رقم کا مطالبہ کرتے رہے پولیس اغوا کے بعد پانچ روز تک ملزمان کا سراغ نہ لگا سکی جس پر اہل خانہ اغوا کاروں سے مذاکرات کرنے پر مجبور ہوئے اور مذکرات کے بعد ملزمان نے ایک کروڑ 27 لاکھ روپے کے عوض رہائی پر آمادگی ظاہر کی اہل خانہ نے قریبی دوستوں اور رشتے داروں سے رقم کا انتظام کیا اور یہ رقم ملزمان کے حوالے کی گئی ملزمان نے ایک کروڑ 27لاکھ روپے تاوان کی رقم وصول کرکے ڈاکٹر ساجد مصطفیٰ کو رہا کیا انہیں اغوا کے دس روز بعد رہائی ملی پولیس اغوا کاروں کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے ملزمان کا گرفتار نہ ہونا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور ینگ ڈاکٹرز نے وزیراعلی پنجاب،وزیر صحت پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیاہے کہ ڈاکٹر ساجد مصطفی کو اغوا کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے نشان عبرت بنایا جائے اور تاوان کی رقم برآمد کی جائے اگر پولیس نے ملزمان کو گرفتار نہ کیا تو صوبہ بھر میں احتجاج کیا جائے گا اغوا کی واردات کی وجہ سے پنجاب بھر کی طبی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اگر ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو مجبوراً پورے پنجاب کے ہسپتالوں میں احتجاج کا راستہ اپنانے پر مجبور ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں