ٹیچرز کی جان خطرے میں نہ ڈالنے کے دعوے ٹھس، 2 دن سکول حاضر ہونے کا حکم

ساہیوال(ایس این این)دوسروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت۔ ہم اپنے ٹیچرز کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتے، صوبائی وزیر تعلیم مراد کے بیان کے بعد محکمہ تعلیم ساہیوال نے بند سکولز کی صفائی چیک کرنے کے لیے اے ای اوز کو ہفتے میں چار دن جب کہ ہیڈ ٹیچرز کو ہفتے میں 2 دن سکول میں حاضر رہنے کا پابند کر دیا۔ مانیٹرنگ افسران اور ایم ای اے کے وزٹ کے دوران بھی ٹیچنگ عملہ کی حاضری ضروری قرار دے دی گئی۔ ذرئع کے مطابق ضلع ساہیوال کے تمام ہیڈ ٹیچرز کو کرونا کی شدت کے دنوں میں سکولز کی صفائی کے لیے ہفتے میں دو دن سکول میں حاضر رہنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ اے ای اوز کو بھی ہفتے میں چار دن سکولز کا وزٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ ہیڈ ٹیچرز کے مطابق انھیں ہیڈ ٹیچر الاؤنس کی مد میں 500 روپے ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں جو دفتر کے چکروں اور کاغذی کارروائیوں کے لحاظ سے کم ہیں۔ دوسری جانب ان کا کنوینس الاؤنس بھی تنخواہ سے کاٹا جا رہا ہے۔ ایک جانب وزیر تعلیم ٹیچرز کی جان خطرے میں نہ ڈالنے کی بات کرتے ہیں دوسری جانب بند سکولز کی صفائی کے لیے آئے دن سکول جانا پڑتا ہے۔ میٹرک پاس ایم ای اے ذرا ذرا سی بات پر خواتین اساتذہ کو نہ صرف ہراساں کرتے ہیں بلکہ انھیں انکوائری کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ دفتر کی جانب سے انھیں بار بار سکول وزٹ کے باوجود تصاویر بھیجنے کا حکم بھی دیا جاتا ہے۔ ایک ہیڈ ٹیچر نے ہمارے رابطہ کرنے پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ گلی محلوں میں بچوں کا جم غفیر ہے۔ بچے معاشرتی بگاڑ کا شکار ہو رہے ہیں۔ جن گلیوں میں بچے کھیلتے ہیں وہاں سیوریج کا پانی اور کوڑے کر کٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہے۔گلیوں کی صفائی بلدیہ افسران، ڈی سی صاحبان اور منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے آج تک کسی نے اس پر مانیٹرنگ افسران مقرر نہیں کیے۔ ٹیچرز کو مفت کی تنخواہیں کھانے کا طعنے دینے والی قوم اور حکومت نے سارا ملبہ ٹیچرز پر ہی ڈالا ہوا ہے۔ ہر ہنگامی حالت میں ہم آن ڈیوٹی ہوتے ہیں۔ انتخابات کے دوران بھی عدالت کے کلرکوں کے دھکے کھاتے ہیں، پولیو اور مردم شماری حتیٰ کے بچوں کو گھر وں سے لانے کی ذمہ داری بھی ہم ہی انجام دیتے ہیں۔ اب جب ساہیوال میں کرونا کی وبا زوروں پر ہے بغیر ایس او پیز مقرر کیے ٹیچرز کو سکولز میں بلا کر ایم ای ایز کے ہاتھوں بے عزت کروانا سمجھ سے بالا تر ہے۔ یاد رہے کہ ایک جانب وزیر تعلیم کا اعلان کہ ہم اپنے بچوں اور ٹیچرز کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتے وبا کی شدت میں ٹیچرز کو سکول آنے کا حکم وزیر تعلیم کے بیان کی نفی ہے۔دوسری جانب ساہیوال کے کئی سرکاری سکولز میں خاکروب اور درجہ چہارم کا کوئی ملازم ہی نہیں ہے جو صفائی کرے.

اپنا تبصرہ بھیجیں