سری نگر ، 5 ماہ کی بندش کے بعد سری نگر کی مسجد میں جمعے کی نماز

سری نگر(ایس این این ویب ڈیسک)مقبوضہ کشمیر کی 600 سال پرانی تاریخی جامع مسجد پانچ ماہ تک بند رہنے کے بعد جمعے کو نماز کے لیے کھول دی گئی۔انڈین حکومت نے پانچ اگست کو پارلیمنٹ میں ایک بل کے ذریعے انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کی آئینی خودمختاری ختم کرنے کے بعد وہاں کئی پابندیاں نافذ کی تھیں اور جامع مسجد کو بھی تالے لگا دیے گئے تھے۔ تقریباً پانچ ماہ کے محاصرے کے بعد آج جمہ کی نماز مسجد میں ادا کی گئی۔جامع مسجد کے خطیب اور کشمیری رہنمامیر واعظ عمر فاروق مسلسل گھر میں نظر بند ہیں۔
اس موقعے پرکشمیری نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ’عید کے روز بھی مسجد کا محاصرہ ختم نہیں کیاگیا، عید میلاد کی تقریب کی اجازت نہیں دی گئی۔ آج 19 ہفتوں بعد یہاں اذان ہوئی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ آج ہماری عید ہے۔‘
جمعے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسجد کے امام عبدالحی کا کہنا تھا ’پوری دنیا میں مسلمان ایک آزمائشی دور سے گزر رہے ہیں، اور کشمیر پر بھی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔‘اپنے خطاب میں انھوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ مسجد کا تقدس ہر قیمت پر قائم رہنا چاہیے۔
کشمیریوں کو مسجد کھلنے کی خبر نہ ملنے کی وجہ سے مسجد میں لوگوں کی تعداد معمول سے بہت کم تھی۔ مسجد کے چاروں طرف بھاری تعداد میں نیم فوجی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا اور جامع مسجد کی طرف جانے والے شہری راستوں کو بھی سیل کیا گیا تھا۔
نماز کے بعد نوجوانوں نے ’ہم کیا چاہتے، آزادی‘ کے روایتی نعرے لگائے تاہم بعد میں نوجوان پرامن طریقے سے منتشر ہوگئے۔ مظاہرین نے جامع مسجد کے خطیب میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظربندی کے خلاف ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں