ساہیوال، سرکاری سکول 43 سال سے کرائے کی بلڈنگ میں

ساہیوال(ایس این این)پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت بھی تعلیمی ترقی کے وعدوں پر پورا نہ اتر سکی۔مفت تعلیم کی فراہمی کے دعوے کرنے والی حکومت کرائے کی بلڈنگ میں سکول چلانے پر مجبور،خستہ حال مکان میں بچوں کا مستقبل دائوپر لگا دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق محلہ راج پورہ کاگورنمنٹ پرائمری سکول نمبر13گزشتہ 43برس سے کرائے کی عمارتوں میں چلا یا جا رہا ہے۔1976سے قائم ہونے والے اس سکول کو سرکاری جگہ الاٹ نہیں کی گئی۔ سکول سٹاف اور بچے خانہ بدوشی کی حالت میں تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔راج پورہ کے مکینوں کے مطابق اس سکول میں 170کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں۔ اہل محلہ کی جانب سے سابق ناظم اور حکام کو کئی بار درخواست دی جا چکی ہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔سابق ناظم چوہدری صغیر نے اس ضمن میں متعلقہ حکام کو خط بھی لکھا تھا مگر حکام کی جانب سے سرکاری زمین نہ ہونے کا جواز بنا کر معاملہ سرد خانے کی نذر کر دیا گیا۔راج پورہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سکول کی موجودہ بلڈنگ خستہ ہے جس میں ایک ہی واش روم ہے جب کہ مانیٹرنگ اہل کار عمارت کی تسلی بخش حالت کی رپورٹ بنا کر بھیجتے رہتے ہیں۔سکول کی عمارت 4بار تبدیل کی جا چکی ہے جس سے سکول سٹاف اور بچے خانہ بدوشوں کی طرح تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں