کیا اساتذہ چور ہیں؟ سی ای او ایجوکیشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال… ایک مدرس کی تحریر

نوٹ: یہ تحریر ایک استاد کی جانب سے موصول ہوئی ہے. اس میں دی جانے والی معلومات کسی حد تک درست ہیں. اس تحریر سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں.
پنجاب میں کسی بھی پارٹی کی حکومت رہی ہو اس امر سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ شعبہ تعلیم کو فنڈز کے معاملے میں ہمیشہ نظر انداز کیا گیا جب کہ کارکر دگی کے حوالے سے اس سے آسمان سے تارے توڑ لانے والی توقعات رکھی گئیں۔ آسمان سے تارے توڑنے کے لیے صرف اور صرف “معلم” کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے “مانیٹرنگ ” کے نام پر قائم محکمے کے حوالے کر دیا گیا جہاں “بڑے سے بڑا استاد” ایک Touchکی مار سمجھا جاتا ہے۔ مشرف دور میں سابقہ “فوجیوں” کو جن کی اہلیت یہ تھی کہ ریٹائرڈ فوجی ہیں ، اساتذہ کی نگرانی پر متعین کیا گیا۔ شہباز شریف نے اس روایت کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ ان سختیوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔ بچوں کے پاس یونیفارم ہو نہ ہو، کتابیں ہوں نہ ہوں۔TABSکی خریداری لازم قرار دی گئی۔ DTE اور “فوجی”صاحبان کو بھی TABSدئیے گئے تا کہ وہ آن لائن ڈیٹا ارسال کر سکیں۔ اس مد میں جو رقم خرچ کی گئی وہ سکولز کی تعمیر و ترقی اور بچوں کی حالت کی بہتری پر خرچ کی جاتی تو کہیں بہتر ہوتا۔ آج سکول ٹیچرز بچوں کے داخلوں سے لے کر صفائی تک کے خود ذمہ دار ہیں۔ہیڈ ٹیچرز کبھی کوئی ڈیٹا آن لائن کر رہے ہیں کبھی کوئی ڈاک بھجوا رہے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کے حوالے سے ریلیوں میں شرکت، ریلیوں کی تصاویر اپ لوڈ کرنا، ڈینگی واک، داخلوں کا سروے اور ہنگامی میٹنگز میں بلاوے ہیڈ ٹیچرز کے تدریسی عمل میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ رٹا سسٹم کو فروغ دینے کے لیے LND کا انعقاد اور اس کے لیے پرچوں کی فروخت کا معاملہ بھی ہمارے نظام تعلیم پر سوالیہ نشان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اساتذہ میں سے کچھ لوگ اپنے فرائض میں کوتاہی برتتے رہے ہیں۔گھوسٹ سکولز کے نام پر جہاں اساتذہ کو نشانہ بناتے ہوئے مانیٹرنگ کا سسٹم وضع کیا گیا وہاں ان وڈیروں اور چودھریوں کی باز پرس کبھی نہیں کی گئی جنھوں نے اپنے بندوں کو بطور مدرس بھرتی کروا کے ایسے سکولز قائم کیے یا پہلے سے قائم سکولز میں تدریسی عمل منقطع کر کے انھیں اصطبل یا باڑے کے طور پر استعمال کیا۔ دور حاضر میں بھرتی ہونے والے اساتذہ کی بڑی تعداد اہلیت کی بنیاد پر سسٹم میں آ رہی ہے۔ اس طبقے میں تعلیمی میدان میں کچھ نیا کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے مگر مانیٹرنگ اور دیگر ادارے جو اساتذہ کی عزت نفس مجروح کرنے پر معمور ہیں اس بنا پر وہ نہ صرف مایوس ہیں بلکہ دل شکستہ ہو کر تدریس کا شعبہ چھوڑنے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے کلرک تک اساتذہ سے مختلف حیلوں بہانوں سے پیسے بٹورتے ہیں۔پنجاب کے موجودہ وزیر تعلیم”ٹویٹ” میں تو بڑے دعوے کرتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ “معلم” آج بھی کلرک مافیا کے سامنے مجبور ہے۔
ضلع ساہیوال میں تعینات ہونے والے سی ای او ایجوکیشن سجاد اسلم رینالہ خورد میں تعیناتی کے دوران جو کارہائے نمایاں انجام دے چکے ہیں وہ طشت از بام ہیں۔ ساہیوال آتے ہیں انھوں نے اساتذہ کی تذلیل کی قسم پوری کی اور مختلف سکولز کے دورے کر کے بغیر کسی بڑی وجہ کے سکولز کے سربراہان کو معطل کر دیا۔ کئی معطل شدگان “پیسے” دے کر بحال ہو گئے اور جو نہ دے سکے ان کی انکوائریاں ابھی تک چل رہی ہیں۔ موصوف نے ایک مخصوص “درود پاک” کاورد کروانا ہوتا ہے۔ نبی کریمؐ پر درود بھیجنے سے بڑی فضیلت کوئی نہیں مگر سجاد اسلم نہ صرف پوری پوری سرکاری میٹنگز میں مخصوص درود پڑھاتے ہیں بلکہ طاہر القادری کی طرح خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت اور درود پاک کی ہدایت کے واقعات سنا کر “معلمات” اور معلموں پر سحر طاری کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سابقہ ضلع میں انجام دئیے گئے کارناموں پر کوئی نہیں بولتا کہ خدا نخواستہ گستاخی نہ ہو جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میٹنگ کے دوران آنے والی تمام فرض نمازیں فوت ہو جاتی ہیں۔ صوبہ پنجاب میں ڈینگی سے آگاہی کے لیے دس منٹ کا ایک پیریڈ وقف کیا گیا تھا موصوف نے صوبے کی جانب سے مقرر کر دہ سکول ٹائمنگ کو آدھا گھنٹا بڑھاتے ہوئے یہ پیریڈ 30 منٹ کا کر دیا ہے۔جس سے بچے ، اساتذہ خصوصاً خواتین اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتے دوہفتوں کے دوران سی ای او نے سکول ٹائمنگز کے بعد منعقد ہونے والی میٹنگز تدریسی، تعلیمی امور سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ صرف اپنے خواب سنائے اور خواتین اساتذہ کو مخصوص درود پاک پڑھوا کر اس کی رپورٹس واٹس ایپ کرنے کی ہدایت کی۔ان میٹنگز کا جو وقت مقرر تھا اس کا بھی خیال نہیں کیا گیا اور 2 بجے بلوا کر اساتذہ کو کمپری ہنسو سکول کے لانز میں مٹر گشت کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔

گورنمنٹ کمپری ہنسو ہائی سکول میں دو بجے بلائے جانے والے اساتذہ لان میں خوار ہورہے ہیں

دور دراز سے آنے والے اساتذہ اندھیرے میں صلواتیں سناتے ہوئے گھروں کو روانہ ہوئے۔ساہیوال میں سجاد اسلم صاحب نے خادم پنجاب پروگرام کے تحت تعمیر ہونے والے کمروں ، فرنیچر اور دیگر چیزیں بنانے کا ٹھیکہ کسے دیا؟ آپ سجاد اسلم کے خلاف نیب میں دی جانے والی درخواست نکلوا لیں۔ رینالہ خورد میں قیام کے دوران اس کی سرگرمیاں اور خدمات دیکھ لیں آپ کو خود پتا چل جائے گا۔ اب بے جا سختیاں اور ڈینگی آگاہی مہم۔۔۔ اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا سجاد اسلم کا وطیرہ بن چکا ہے۔ محترم ڈینگی کے حوالے جو محکمے قائم ہیں ان کی بھی مانیٹرنگ کریں۔ وزیر صحت ، سیکرٹری صحت کا محاسبہ بھی کریں۔

بطور استاد میرا وزیر تعلیم سے یہ سوال ہے کہ کیا اس سسٹم میں چور صرف استاد ہی ہے؟ آپ وزیر صاحبان ، ممبران اسمبلی ٹی اے ڈی اے لیتے ہیں۔ آپ کو جو سہولیات میسر ہیں استاد کو ان میں سے ایک بھی میسر نہیں۔ سردی گرمی رکشوں اور بائیکس پر آنا پڑتا ہے۔آپ لوگ اسمبلی میں آکر پاکستان میں کون سی تبدیلی لائے؟ مانیٹرنگ تو آپ کی ہونی چاہیے ناں؟ ایک فوجی جو اتنا پڑھا لکھا بھی نہیں اور پی ایچ ڈی ہیڈ ماسٹر اس کے سامنے دست بدستہ ہوتا ہےکیا اس فوجی کی مانیٹرنگ ہو سکتی ہے؟ کیا کسی جج کی مانیٹرنگ کی گئی جس نے عرصے سے لگے مقدموں کا فیصلہ نہیں کیا اور تاریخ پر تاریخ دیتا رہا کہ ملزم مرنے کے بعد ہی بے گناہ ثابت ہو پایا۔ جناب عالی! اساتذہ نے تو پھر بھی کوئی ڈاکٹر، انجینئر، مدرس، محقق، ادیب پیدا کر ہی دیا اپنی تربیت سے۔۔۔سیاستدانوں نے کیا کیا؟ پھر بھی مانیٹرنگ کی تلوار ہمارے ہی سر پر کیوں؟ آپ گرما، سرما اداروں میں چھے گھنٹے بیٹھیں آ کر۔۔۔ بجلی، روشنی کچھ بھی تو نہیں دیا آپ نے قوم کے نونہالوں کو۔۔۔پھر بھی چور استاد ہی ہے جو قوم کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔۔۔ کچھ تو خدا کا خوف کریں۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں