ساہیوال ٹیچنگ سپتال میں سیکیورٹی گارڈز کا غنڈہ راج

ساہیوال (بیورورپورٹ)ٹیچنگ ہسپتال میں غنڈہ راج، سکیورٹی گارڈز کی مریضوں کے لواحقین سے بدتمیزی،مریضوں اور لواحقین کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایات شدت اختیار کر گئیں،میڈیکل سپرٹنڈنٹ کی بے بسی،پرنسپل میڈیکل کالج کی بے حسی لاعلاج،میڈیکل کے شعبہ کی بااثر شخصیات کی بے حسی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے فقدان نے گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے پرنسپل ساہیوال میڈیکل کالج ڈاکٹر طارق آئے روز مختلف اقسام کے سکینڈلز کی زد میں رہتے ہیں جن میں جنسی ہراسگی کے سکینڈل سرفہرست ہیں۔میڈیکل سپرٹنڈنٹ کی گرفت انتظامی امور پر خاصی کمزور بتائی جاتی ہے۔ٹیچنگ ہسپتال میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے ایک مخصوص کمپنی سے درجنوں سکیورٹی گارڈز لیے گئے ہیں جن کی اکثریت مبینہ طور پر مختلف اقسام کے جرائم میں ملوث ہے۔سکیورٹی گارڈز کی بڑی تعداد مریضوں اور لواحقین سے بھتہ وصولی میں ملوث ہیں۔ناجائز مراعات حاصل کرنے کے لیے علاج کے لیے آنے والوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے پریشان کیا جاتا ہے۔ایسی ہی شکایت چلڈرن وارڈ میں داخل مریضہ مناہل کے والد نجم الزماں جامی کی ہے،جہاں ایک نوجوان سکیورٹی گارڈ نے باتھ روم میں پانی نہ ملنے اور چلڈرن وارڈ میں ایک بیڈ پر تین تین مریضوں کی موجودگی پر صدائے احتجاج بلند کرنے پر مریضہ اور اس کے لواحقین نجم الزماں جامی کے ساتھ گالی گلوچ کرتے ہوئے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ٹیچنگ ہسپتال کے مختلف وارڈوں میں داخل مریضوں کی بڑی تعداد ہسپتال انتظامیہ اورسکیورٹی گارڈز کے ناروا رویے سے شاکی دکھائی دے رہی ہے۔عوامی سماجی حلقوں نے صوبائی وزیر صحت، سیکرٹری ہیلتھ اور کمشنر ساہیوال ندیم الرحمن سے اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں