یونیورسٹی آف ساہیوال حکومتی توجہ سے محروم

ساہیوال(بیورورپورٹ)یونیورسٹی آف ساہیوال محدود مالی وسائل کے باوجود طلبا و طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے اور بہت جلد یونیورسٹی میں نئے کورسز بھی متعارف کرائے جائیں گے تا کہ زیادہ سے زیادہ طلبا و طالبات یونیورسٹی سے مستفید ہو سکیں -یونیورسٹی کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے کوئی مالی امداد موصول نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی کا ترقیاتی پروگرام تعطل کا شکار ہے -یہ بات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر افضل نے اپنے دفتر میں ایک خصوصی ملاقات میں کہی۔انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ یونیورسٹی کو زیادہ فنڈز اور حکومتی سر پرستی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بد قسمتی سے دونوں کی عدم دستیابی سے طلبا و طالبات کو بہترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے اور تمام اخراجات فیسوں سے ہونے والی آمدنی سے ہی پورے کئے جا رہے ہیں -انہو ں نے کہا کہ اکتوبر 2018میں وائس چانسلر کا چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری اور ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے اپنے محدود وسائل سے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں -انہوں نے مزید بتایا کہ وہ یونیورسٹی کی طرف جزوقتی اساتذہ کے بقایا جات کی ادائیگی کا عمل بھی شروع کر چکے ہیں اور اسی ماہ 2017-18کے تمام بقایا جات ادا کر دیئے جائیں گے تاہم تاخیر کی وجہ متعلقہ اساتذہ کی طرف سے کلیمز کی عدم فراہمی ہے جس کے لئے انہیں بار بار یاد دہانی بھی کرائی جا رہی ہے-وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر افضل نے کہا کہ یونیورسٹی میں خدمات سر انجام دینے والے ہر شخص کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنایا جائے گی اور اس سلسلے میں سیکروٹنی کا عمل بھی تیز کر دیا گیاہے -انہو ں نے کہا کہ یونیورسٹی میں نئے شعبوں کے اجراء کا منصوبہ بھی صوبائی حکومت کو بھجوایا جا چکا ہے اور فنڈز کی دستیابی کی صورت میں متعدد نئے ڈگری پروگرام شروع کئے جائیں گے اور نئے اکیڈمک بلاکس بھی تعمیر ہونگے-

اپنا تبصرہ بھیجیں