ساہیوال کی لڑکی نے چینی باشندے سے شادی رچا لی

ساہیوال(بیورورپورٹ)چینی باشندے کی پاکستانی لڑکی سے شادی،ماں باپ گھرچھوڑکرغائب،17سالہ دوشیزہ 3لاکھ میں فروخت کی گئی،دلہن کے چچاخالدمحمودکاانکشاف،اہل دیہہ سراپااحتجاج۔تھانہ یوسف والا کے نواحی گاؤں 97نائین ایل چھوٹاوکیل والا میں محنت کش افضل نے اپنی 17سالہ کنواری بیٹی چینی باشندے کے سپرد کردی،ذرائع کے مطابق گاؤں کے رہائشی افضل کے داماد احسن بلوچ نے اپنے سسرکوبتایاکہ اس کے ایک چینی شخص سے مراسم ہیں جوپاکستانی نوجوان لڑکی سے شادی کاخواہشمندہے۔چینی نوجوان لڑکی کے گھروالوں کو لاکھوں روپے نقداداکرنے کوتیارہے۔افضل نے اپنی 17سالہ بیٹی مہک کو چینی باشندے کے سپردکردیا،مہک کورخصتی سے قبل اپنے خاندان کی مخالفت پرکچھ دیرکیلئے گھرسے غائب رکھاگیا جسے رات کی تاریکی میں کیری ڈبہ میں والدہ ذکیہ اوروالدافضل اپنے داماد احسن بلوچ کے ہمراہ چینی باشندے کے ٹھکانے واقع لاہورچھوڑآئے۔دلہن کے چچاخالدمحمود،دادامحمد اقبال اوراہل دیہہ کے مطابق افضل نے مہک کو تین لاکھ کے عوض چینی باشندے کوفروخت کردیاہے مہک کے 13/14سالہ چھوٹے بھائی عادل کے مطابق اس کی بہن اپنے چینی خاوند کے ساتھ خوش وخرم زندگی گزاررہی ہے۔لگائے گئے الزامات بے بنیادہیں۔ذرائع کے مطابق لاہورکے علاقہ جوہرٹاؤن میں قیام پذیر چینی باشندوں کاایک گروپ پاکستانی لڑکیوں کوشادی کاجھانسہ دیکر اپنے مخصوص مقاصد کیلئے استعمال کررہاہے۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اب تک 65سے زائد لڑکیاں چینی باشندوں کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ چکی ہیں۔گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں بھی پاکستانی لڑکیوں کی چینی باشندوں سے شادیوں اوران کے جسمانی اعضاء کی غیرقانونی فروخت کاچرچا ہوتارہاہے۔تھانہ یوسف والا کے مطابق کسی بھی جانب سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی،درخواست آنے پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں