ساہیوال، سی ٹی ڈی کی مبینہ فائرنگ سے خاتون سمیت چار افراد ہلاک

ساہیوال(ایس این این) ساہیوال میں خفیہ اداروں کی مبینہ کارروائی.ساہیوال میں ٹول پلازہ کے نزدیک سی ٹی ڈی کی کارروائی میں 4 افراد جاں بحق اور 3 بچے زخمی ہوگئے۔جاں بحق افراد میں ایک خاتون نبیلہ، ان کا شوہر محمد خلیل اور ان کی 13 سالہ چھوٹی بیٹی اریبہ شامل ہے جبکہ ایک بیٹا اور 2 بیٹیاں بھی زخمی ہوئی ہیں۔ جاں بحق افراد میں چوتھا شخص ان کا ہمسایہ تھا۔ یہ پورا خاندان لاہور کا رہائشی تھا جو شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے بورے والا جارہا تھا۔ سی ٹی ڈی نے ان تمام افراد کو کالعدم تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کا دہشت گرد قرار دیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔
سی ٹی ڈی نے چاروں جاں بحق افراد کو اغوا کار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے ساہیوال میں جی ٹی روڈ پر ٹول پلازہ کے نزدیک ایک آلٹو گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا تو کار سوار افراد نے فائرنگ کردی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے چاروں افراد ہلاک ہوگئے تاہم کوئی پولیس اہلکار زخمی نہیں ہوا۔ کے نتیجے میں فائرنگ پر زخمی بچے کا بیان سامنے آگیا، زخمی بچے کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں میرے والدین، بہن اور والد کا دوست شامل ہیں۔
سی ٹی ڈی کارروائی میں زخمی ہونے والے بچے عمیرخلیل کا کہنا ہے کہ ’’ہم اپنے گاؤں بورے والا میں چاچو رضوان کی شادی میں جارہے تھے، فائرنگ میں مرنے والی میری ماں کانام نبیلہ ہے اور والد کا نام خلیل ہے۔ مرنے والی بہن کا نام اریبہ ہے‘‘۔بچے نے مزید بتایا ہے کہ ’’ہمارےساتھ پاپا کےدوست بھی تھے، جنہیں مولوی کہتےتھے۔ فائرنگ سے پہلے پاپا نے کہا کہ پیسے لےلو، لیکن گولی مت مارو۔ انہوں نے پاپا کو ماردیا اور ہمیں اٹھا کر لے گئے، پاپا، ماما، بہن اور پاپا کے دوست مارے گئے‘‘۔ساہیوال واقعے پر ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
ترجمان پولیس کے مطابق جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی ، ایم آئی اور آئی بی کے افسران بھی شامل ہوں گے ۔ترجمان کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 3 روز میں واقعے کی رپورٹ پیش کرے گی ۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نےکہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب نے ساہیوال واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ساہیوال واقعے پر اپنے ویڈیو پیغام میں ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کار پر فائرنگ میں انسانیت سوز واقعے پر عمران خان اور عثمان بزدار نے فوری طور پر نوٹس لے لیا ہے۔ان کا کہناتھاکہ وزیراعظم نے شفاف تحقیقات کے ساتھ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔
دوسری جانب فائرنگ سے مارے گئے خلیل کے بھائی جلیل کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہماری فیملی پر فائرنگ کرکے میرے بھائی کو قتل کردیا ہے۔
جلیل نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی فائرنگ کے وقت گاڑی میں 4بچے بھی سوارتھے، ان بچوں میں 14سال کی اریبہ بھی تھی، جس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے۔جلیل نے کہا کہ میرا بھائی خلیل پرچون کی دکان پر کام کرتا تھا اور شادی میں شرکت کے لئے جارہا تھا۔گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی.
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والی گاڑی لاہور کی جانب سے آرہی تھی، جسے ایلیٹ فورس کی گاڑی نے روکا اور فائرنگ کردی جبکہ گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق مرنے والی خواتین کی عمریں 40 سال اور 13 برس کے لگ بھگ تھیں۔عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ گاڑی میں کپڑوں سے بھرے تین بیگ بھی موجود تھے، جنہیں پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے کار میں سوار بچوں کو قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین کو مار دیا گیا ہے۔انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب امجد جاوید سلیمی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او ساہیوال سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔
ترجمان پنجاب پولیس نبیلہ غضنفر کے مطابق اگر مارےگئے افراد پُر امن شہری تھے تو فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر واقعے میں کسی کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف ایکشن لیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں