ساہیوال، اینٹوں کی مہنگے داموں فروخت، مزدور پریشان

ساہیوال (بیورورپورٹ)بھٹہ خشت مالکان نے ضلعی انتظامیہ کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے،اینٹوں کی خود ساختہ نرخوں پر بلیک میں فروخت جاری مہنگی اینٹوں کی فروخت کے باعث تعمیراتی کام رک گئے مزدور طبقہ کے چولہے ٹھنڈے پڑنے لگے۔عوام کا کمشنر و ڈپٹی کمشنر ساہیوال سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق ضلع بھر کے بھٹہ مالکان نے خودساختہ اور مہنگے نرخوں پر اینٹیں فروخت کرنا شروع کر رکھی ہیں اور باقاعدہ دیدہ دلیری سے رسیدیں بھی دی جاتی ہیں ضلعی انتظامیہ کی بار بار تنبیہ کے باوجود بھٹہ مالکان نے حکومتی رٹ کو چیلنج کررکھا ہے اور اینٹ فی ہزار 8000ہزار سے لیکر 10000ہزار روپے میں فروخت کی جارہی ہے، مہنگی اینٹیں ملنے کی وجہ سے نجی تعمیراتی منصوبے وغیرہ رک کر رہ گئے ہیں اور تعمیراتی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مزدور طبقہ کے چولہے ٹھنڈے پڑ رہے ہیں شہریوں نے 92نیوز کو بتایا کہ بھٹہ مالکان ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹی اور ڈی سی کی طرف سے اول درجہ اینٹوں کے طے شدہ 6500 روپے فی ہزار ریٹ کی بجائے 8000 روپے سے لیکر 10000 وصول کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اینٹوں کی خریداری متوسط اور عام طبقہ کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہے واضح رہے کہ سموگ کے خطرے کے پیش نظر عدالتی احکامات کے تحت چند ماہ کے لیے بھٹہ خشت چلانے پر پابندی عائد کی گئی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مالکان اینٹوں کی بلیک میں فروخت جاری رکھے ہوئے ہیں،جبکہ انتظامیہ کی طرف سے چھاپوں اور جرمانوں کے دعوے تو کئے جارہے ہیں لیکن بھٹہ مالکان کے سامنے انتظامیہ کی بیبسی واضح نظر آرہی ہے شہریوں نے کمشنر ساہیوال عارف انور بلوچ اور ڈپٹی کمشنر ساہیوال محمد زمان وٹو سے اس گھمبیر صورتحال کا فوری نوٹس لیکر حاضر سٹاک اینٹوں کی کنٹرول ریٹ پر فروخت پر عمل در آمد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں