توہین رسالت کی مرتکب آسیہ بی بی کو بری کر دیا گیا

اسلام آباد( ایس این این )سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بری کردیا، عدالت نے حکم دیا ہے کہ آسیہ بی بی کسی دوسرے کیس میں مطلوب نہیں تو رہا کر دیا جائے۔فیصلہ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سنایا، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل بھی بنچ کا حصہ ہیں۔ٹرائل کورٹ نے نومبر 2010ء کو توہین رسالت کیس میں آسیہ بی بی کو سزائے موت سنائی تھی، جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔آسیہ بی بی نے لاہور ہائی کورٹ کافیصلہ اکتوبر 2014 ء میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے ضلع ننکانہ صاحب کے توہین رسالت کے مشہور مقدمے کی ملزمہ آسیہ بی بی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ سے ملنے والی سزائے موت اور اسے برقرار رکھنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملزمہ کی اپیل پر 8 اکتوبر 2018ء کو محفوظ کیا تھا۔سپریم کورٹ،توہین رسالت کی ملزمہ آسیہ کی اپیل پر محفوظ فیصلہ آج جاری کیا جائیگا.ادھر اسلام آباد میں اندیشہ نقص امن کے پیش نظر ریڈ زون مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، شہر میں داخلے کے تمام راستوں پر کنٹینر لگا دیئے گئے ہیں۔آسیہ بی بی پرالزام تھا کہ اس نے جون 2009 میں ایک خاتون سے جھگڑے کے دوران حضرت محمد ﷺ کی شان میں توہین آمیزجملے استعمال کیے تھے۔جس کا اس نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف بھی کیا تھا.
پولیس کے مطابق وفاقی دارلحکومت میں داخل ہونے کے تمام راستوں پر پولیس اور رینجرز کے دستے تعینات ہیں، بتایا گیا ہے کہ وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو بھی ممکنہ صورت حال کے تدارک کے لیے سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کی ہے جبکہ موبائل فونز سروس بھی بند کئے جانے کا امکان ہے۔علاوہ ازیں محکمہ داخلہ سندھ نے بھی اس حوالے سے مسیحی آبادیوں سمیت تمام حساس مقامات پر سیکیورٹی سخت کرنے کی سفارش کی ہے، اس سلسلے میں رات گئے متعدد مقامات کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں