ضمنی الیکشن چیچہ وطنی: کس امیدوار کا پلڑا بھاری ہے!

تحریر: ارشد فاروق بٹ

چیچہ وطنی کے حلقہ پی پی 201 میں 14 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب کی بھرپور کمپین کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ ہفتے ہونے والی اہم سیاسی سرگرمیوں کے بعد اب یہ واضح ہونا شروع ہو گیا ہے کہ الیکشن میں کس امیدوار کا پلڑا بھاری ہے۔

ضمنی الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری محمد طفیل جٹ ہیں جو کہ سابق ایم این اے اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کی طرف سے سابق ایم این اے پیر سید صمصام بخاری میدان میں ہیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے چوہدری شفقت چیمہ ضمنی انتخاب لڑ رہے ہیں۔

پی پی 201 میں حتمی مقابلہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے امیدواران میں ہی متوقع ہے۔ چیچہ وطنی کی سیاست دھڑے بندی اور برادری ازم کے گرد گھومتی ہے۔ گزشتہ 30 سالہ سیاست میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بڑی پارٹیوں کے علاوہ کسی امیدوار کو عوام نے اسمبلی میں پہنچایا ہو۔
ضمنی الیکشن پرانے سیاسی سٹائل پر ہی لڑا جا رہا ہے جس میں بڑوں کو ساتھ ملایا جاتا ہے تاکہ ان کے زیر اثر لوگوں کا ووٹ بھی حاصل کیا جا سکے۔ دونوں پارٹیوں میں جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔

حال ہی میں پی ٹی آئی کے امیدوار کوکچھ حوصلہ افزا کامیابیاں ملی ہیں۔ سابق مسلم لیگی ایم این اے چوہدری منیر ازہر کے پرسنل اسسٹنٹ ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس شمولیت میں قیادت کی مرضی شامل ہے یا نہیں۔
دوسری بڑی کامیابی پیر سید صمصام بخاری کو پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی نائب صدر ، سابق صوبائی پارلیمانی سیکرٹری شہزاد سعید چیمہ کی حمایت کی صورت میں ملی ہے جنہوں نے اپنے دوستوں اور ورکرز کے مشاورتی اجلاس کے بعد اپنے ووٹ پیپلز پارٹی کے امیدوار کی بجائے پی ٹی آئی کے امیدوار کو دینے کا اعلان کیا۔
تیسری اور حتمی کامیابی پی ٹی آئی کے امیدوار کو پیر سیدمنورحسین شاه جماعتی کی چیچہ وطنی آمد کے موقع پر ملی جس میں مسلم لیگ ن کے راہنما میاں محمد سہیل جاوید رحمانی نے اپنے عزیزواقارب اور سیکڑوں ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار پی پی 201 سید صمصام علی بخاری کی حمایت کا اعلان کردیا۔
اس طرح پانچ اہم شخصیات ، رائے حسن نواز، ایم این اے رائے مرتضی اقبال، چوہدری شہزاد سعید چیمہ ، میاں جاوید سہیل رحمانی اور چوہدری منیر ازہر کے پرسنل اسسٹنٹ کی حمایت اور کمپین کے بعد پیر سید صمصام بخاری کی سیاسی پوزیشن بہت مستحکم ہو گئی ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری طفیل جٹ کی جانب سے بھی بھرپور کمپین جاری ہے۔ مسلم لیگ ن چیچہ وطنی کی جانب سے مسلم لیگ ن کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس کی تصاویر جاری کی گئی ہیں جس میں پی پی 201 میں کامیابی کے لیے ذمہ داران کی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن کی چیچہ وطنی آمد کو بھی کمپین کا ایک حصہ قرار دیا جارہا ہے جس میں چوہدری طفیل جٹ نے ان سے درخواست کی ہے کہ ضمنی الیکشن میں ان کی سپورٹ کی جائے۔

مسلم لیگ ن چیچہ وطنی اس وقت زوال کے دور سے گزر رہی ہے۔ بلدیہ انتخاب اور 2018 کا الیکشن ہارنے کے ساتھ ہی ان کی حمایت یافتہ انجمن تاجران کا وجود ختم ہو چکا ہے اور ایک متبادل تاجر اتحاد نے شہر میں پنجے گاڑ لیے ہیں۔ جبکہ چیچہ وطنی پریس کلب میں ان کا منظور نظر گروہ اپنی بقاء کی جنگ کے ساتھ ساتھ آپس میں بھی دست وگریباں ہے۔
اس صورت حال میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ 14 اکتوبر کا غروب ہوتا سورج کس کو ساتھ لے ڈوبے گا۔ پی پی 201 میں عوام فتح کا تاج کس کے سر سجاتے ہیں اس کی نوید تو 14 اکتوبر کا سورج ہی سنائے گا۔ لیکن پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں میں کئی ایک باتیں مشترک ہیں ۔ دونوں اپنے حلقوں میں 2018 کا الیکشن ہارے ہیں اور دونوں ہی قومی لیول کے سیاستدان ہیں۔ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق دونوں امیدواروں کی سیاست اس حلقے کے نتائج پر اٹکی ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں