تبدیلی کاخواب دکھانے والوں نے عوام کی نیندیں اڑادیں :اکرام الحق

ساہیوال(ایس این این)جماعت اسلامی ساہیوال کے راہنما چوہدری محمد اکرام الحق (ایڈووکیٹ) نے کہاہے کہ گیس کے نرخوں میں 143فیصد اضافہ قابل مذمت ہے اس سے عوام کی مشکلات میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو جائے گا،اس کو فی الفور واپس لیا جائے۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،ان کوکسی قسم کا کوئی ریلیف میسر نہیں۔تبدیلی کاخواب دکھانے والوں نے چند دنوں میں ہی عوام کی نیندیں اڑادی ہیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے انتخابات سے قبل بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے، معیشت کی بحالی، غیر ملکی قرضوں سے نجات، کشکول توڑنے، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے، بیمار صنعتی اداروں کی بحالی کے خوبصورت اور بلند و بانگ دعوے کئے مگر یہ نعرے اور دعوے عملی طور پر کہیں بھی پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے۔ تقریبا دو ماہ سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود کسی ایک وعدہ پر بھی عمل درآمد نہ ہوسکا بلکہ اس کے برعکس مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان نے ساری کسر نکال کر رکھ دی۔ انہوں نے کہا کہ ضروریات زندگی کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔ملک کی معاشی صورت حال روز بروز زوال پذیر ہوتی جا رہی ہے۔بیرونیقرضے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہے ہیں۔سرکاری اداروں کے قرضے ساڑھے 13کھرب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خود انحصاری کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ملکی معیشت کو بحال کرے۔خسارے میں چلنے والے اداروں کے انتظامی معاملات بہتر بنائے۔بیوروکریٹس،سیاستدانوں، جرنیلوں اور ججوں کی بیرون ممالک ناجائز دولت واپس لائی جائے۔حکمران غیرملکی قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے سادگی کاکلچر اپنائیں اور شاہانہ اندازواطوار ختم کیے جائیں۔ پچاس لاکھ گھر وں اورایک کروڑ روزگار کی فراہمی کے لئے اقدامات کیے جائیں۔توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے دعوے نہیں عملی کام کرکے دکھایا جائے۔چوہدری محمد اکرام الحق(ایڈووکیٹ) نے کہا کہ احتساب کا نظام موثر بناتے ہوئے ہر کرپٹ فردکا محاسبہ کرناہو گا۔جب تک ملک بھر میں بلاامتیازکرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی اس وقت تک کرپشن فری پاکستان کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔پانامالیکس میں دیگر436پاکستانیوں،قرضہ معاف کرانے والوں اورسوئس اکاؤنٹس میں غیر قانونی طورپر بھاری رقوم منتقل کرنے والوں کے خلاف فی الفورسخت کارروائی کی جائے تاکہ ملکی دولت کو پاکستان واپس لایاجاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں