نیب کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے: مولانا فضل الرحمان

چیچہ وطنی(ایس این این)مشرف دور سےنیب کا ادارہ متنازعہ ہو کا ہے،اس ادارے کے پاس الزامات ثابت ہونے کا کوئی معیار نہیں ہے ۔ پانامہ اقامہ میں تبدیل ہوگیا۔اس کے باوجود قومی لیڈر کو نااہل قرار دیا گیا۔عدالت نے نواز شریف کےخلاف جو فیصلے دیے اور جتنے پیسوں کا الزام ان پر لگایا گیا ان میں سے ایک کا بھی تذکرہ فیصلہ میں موجود نہیں ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مولانا فضل الرحمٰن نے یہاں چیچہ وطنی میں جمیعت علمائے اسلام کی مقامی قیادت اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار طفیل جٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا. ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا.فیصلے کے وقت بھی میرا یہی کہنا تھا کہ ہماری عدالتوں کے یہ فیصلے دنیا میں ہمارے انصاف کے نظام کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ ہماری عدالتوں کے فیصلوں پر کوئی چھاپ نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے پیچھے سیاسی مقاصد اورسیاسی عزائم پنہاں ہیں۔ہماری خواہش ہے ہم اس طرح کے معیار کی عدلیہ چاہتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ایسے فیصلوں کے بعد جو تاثر پیدا ہوتا ہے اس سے عدل و انصاف پر سوالات اٹھتے ہیں۔لوٹی ہوئی دولت کا پراپگینڈا کرنا الگ چیز ہے لوٹی ہوئی دولت کا تعین کرنا اور چیز ہے ۔ تعین کرلیا جائے کتنا پیسا ہے کہاں پڑا ہوا ہے ۔1994سے یہ سنتے ہوئے ہمارے کان پک گئے ہیں کہ ہمارا پیسا سوئیزرلینڈ ،لند ن میں پڑا ہوا ہے ۔نیب کو صرف ایک سیاستدان کے خلاف سیاسی طور پر استعما ل کیا جا رہاہے ۔ ہمارے ادارے کمزور ہیں. یہاں تو سیاستدان کو پکڑ کر اندر ڈال دیتے ہیں۔گڑے مردے اکھاڑے جاتے ہیں روز وہی کیسز دوبارہ آتے ہیں اگر مقدموں سے ، پیسوں کے الزامات سے ملک بنتے ہیں۔ تو ملک بن جانا چاہیے تھا۔ہر حکومت اپنے اقدامات اپنے مخالف کے حوالے سے تاثر پھیلاتی ہے ۔ میں نہیں کہتا کہ باہر کوئی لوٹی ہوئی رقم نہیں ہے ۔ لیکن اگر ہے تو سیاسی طور پر سیاست دانوں کے خلاف کیوں اس دولت کو لایا کیوں نہیں جارہا اور پھر صرف سیاستدانوں کے پیسے کی بات کیوں کی جاتی ہے ۔ بیور کریٹس کی کیوں بات نہیں کی جاتی ۔ جنرلز کی بات کیوں نہیں کی جارہی ۔ ان کے خلاف کوئِی پراپرگینڈا ،عدالتوں میں روز کھڑا نہیں کیا جاتا۔ میڈیا ٹرائل نہیں کیا جاتاصرف سیاستدان کو ٹارگٹ کیوں کیا جارہا ہے جب آپ کا مقصد انصاف نہ ہوگا۔ جب آپ کا مقصد ملک مالیتی لحاظ سے خود کفیل بنانا نہیں ،صرف سیاستدان کو بدنام کرنا اورسیاسی کھیل کھیلنا ہے۔ پبلک کے سامنے ان کی بڑی بڑی سرخیاں چلانا ہے تو پھر کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔منی بجٹ اور موجود مہنگائی پر پوچھے گئے سوال پر مولانا نے مسکراتے ہوئے کہا کہ چند دن اور انتظار کرلیں ۔ ابھی اور تبدیلی آئے گی۔بھارتی آرمی کی طرف سے بارڈر پر دہشت گردی اور پاسکتان کو دی جانے والی دھمکیاںقابل مذمت ہیں۔دفاع وطن کیلئے ہم ایک پیج پر ہیں چاہے فوج ہو ، چاہے عوام ہو، چاہے سیاسی جماعت ہو، چاہے مذہبی جماعتیں ہوں اپنے وطن کیلئے ایک پیج پر ہیں ۔صدارتی انتخاب پر پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ہر پارٹی کی اپنی ہسٹری ہوتی ہے ، دوستی اپنی ہوتی ہے ۔ لیکن اس سے پارٹیاں ختم نہیں ہوتیں۔جو گذر چکا و ہ گذر چکا اب ہم نے آگے بڑھنا ہے ۔ ہر پارٹی کا اپنا تشخص ہوتا ہے اپنی نظریاتی حیثیت ہوتی ہے ۔اب بھی پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں‌کو ایک پیج پر ہونا چاہیئے تا کہ مستقبل میں اپنا لائحہ عمل طے کرسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں