ساہیوال، نجی اداروں میں مرد اساتذہ کے طالبات کو پڑھانے پر پابندی کا مطالبہ

ساہیوال(ایس این این) شہر کے نجی تعلیمی اداروں میں مرد اساتذہ پر طالبات کی کلاسز پڑھانے پر پابندی عائد کی جائے۔ بعض مرد اساتذہ طالبات کو تدریس کی آڑ میں تعلقات بنانے پر مجبور کرتے ہیں۔ نجی اداروں کی پارٹیوں میں مرد و زن کے اختلاط پر والدین پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔ کمشنر ساہیوال سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ ساہیوال اپ ڈیٹس کو ایک طالبہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ ساہیوال بھر کے نجی تعلیمی اداروں میں مختلف مضامین کی تدریس کے لیے مرد اساتذہ تعینات کیے گئے ہیں جن میں سے بعض تدریس کی آڑ میں معصوم طالبات کو اپنے ساتھ تعلقات بنانے پر مجبور کرتے ہیں۔ مرد اساتذہ اپنی سال گرہ بھی بچیوں کی کلاسز میں مناتے ہیں اور ان بچیوں کو گفٹ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ساہیوال اپ ڈیٹ کی تحقیق کے مطابق بعض اساتذہ مختلف نجی اداروں میں ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ طالبات کو جبری طور پر ٹیوشن پڑھنے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے۔ نجی اداروں کے تفریحی دوروں پر بھی مرد اساتذہ کو طالبات کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔(ف) نامی طالبہ کے مطابق بعض اساتذہ لڑکیوں کے موبائل نمبر بھی لڑکوں کو دینے میں ملوث ہیں۔طالبات کو بیالوجی کا مضمون بھی مرد اساتذہ پڑھا رہے جس میں بعض موضوعات پیشہ ورانہ تعلیم سے قبل معصومیت کی عمر میں طالبات کا مرد اساتذہ سے پڑھنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ساہیوال میں کئی اساتذہ اپنی ان سرگرمیوں کے باعث مختلف کالجز سے نکالے بھی جا چکے ہیں مگر اپنی اکیڈمیز کے بینر تلے وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کئی متوسط طبقے کے مرد اساتذہ امیر لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر انھیں بلیک میل کر کے شادی بھی کر چکے ہیں۔ ساہیوال بھر میں نجی اداروں میں کھلے عام مرد و زن کا اختلاط جاری ہے مگر محکمہ تعلیم کے حکام نظر انداز کر رہے ہیں۔ والدین نے کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی اداروں میں مرد اساتذہ کے طالبات کو پڑھانے پر پابندی عائد کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں